بنیان المرصوص کے دوران سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنیوالوں کیخلاف شکنجہ سخت
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے 500 سے زائد اکاؤنٹس کو شارٹ لسٹ کرکے ان اکاونٹس ہولڈرز کو نوٹسز بھجوائے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بے بنیاد پروپیگنڈا کرنیوالے یوٹیوبرز کو بھی نوٹسز جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آفتاب اقبال، معید پیرزادہ سمیت حمایت یافتہ 20 سے زائد یوٹیوبرز کو نوٹسز بھجوائے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی جارحیت کے جواب میں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران سوشل میڈیا پر حساس اداروں کیخلاف بیانات دینے والوں کیخلاف شکنجہ سخت کر دیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کو اس حوالےسے طلب کرلیا ہے۔ ایجنسی ذرائع کا کہنا ہے کہ علیمہ خان نے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے دوران ریاستی اداروں کیخلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ علیمہ خان نے اپنے بیان سے عوام کا حوصلہ پست کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے 500 سے زائد اکاؤنٹس کو شارٹ لسٹ کرکے ان اکاونٹس ہولڈرز کو نوٹسز بھجوائے ہیں۔ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران بے بنیاد پروپیگنڈا کرنیوالے یوٹیوبرز کو بھی نوٹسز جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آفتاب اقبال، معید پیرزادہ سمیت حمایت یافتہ 20 سے زائد یوٹیوبرز کو نوٹسز بھجوائے گئے ہیں۔ نوٹسز میں مذکورہ ملزمان کو پیش ہو کر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پیش نہ ہونے اور تسلی بخش جواب نہ دینے والے ملزمان کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ا پریشن بنیان مرصوص کو نوٹسز بھجوائے مرصوص کے دوران یوٹیوبرز کو
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ