آئی سی سی نے پلئینگ کنڈیشنز میں کیا بڑی تبدیلیاں کی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے تمام فارمیٹس میں پلیئنگ کنڈیشنز میں بڑی تبدیلیاں کردیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ کے کھیل میں تبدیل ہوئے قوانین جون میں ہونیوالی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ کے فائنل میں لاگو نہیں ہوں گے، البتہ جولائی سے ون ڈے اور ٹی20 میچز پر انہیں لاگو کیا جائے گا۔
ون ڈے انٹرنیشنل میچز کے دوران پچھلے اصول کے تحت، پورے 50 اوورز کیلئے 2 نئی گیندوں کا استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب بالرز کو بھی ایڈوانٹیج دینے کیلئے اسپلٹ یوز سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایشیاکپ کا انعقاد؛ سوالیہ نشان تاحال برقرار
اس قانون کے تحت میچز میں 2 ہی گیندیں استعمال ہوں گی لیکن 35ویں اوور کے آغاز سے پہلے، فیلڈنگ سائیڈ اننگز کے بقیہ حصے کیلئے کسی ایک گیند کا انتخاب کرسکتی ہے تاکہ انہیں ریورس سوئنگ مل سکے۔
اسی طرح کنکشن تبدیلی سے متعلق ہے، اب ہر میچ کے آغاز سے قبل 5 مخصوص کنکشن متبادل کا نام دینا ہوگا، جس میں ایک بیٹر، ایک وکٹ کیپر، ایک بالر، اسپنر اور آل راؤنڈر شامل ہوگا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کے 11ویں، 12ویں ایڈیشن کی ممکنہ تاریخیں منظر عام پر آگئیں
اگر ایک کنکشن متبادل بھی زخمی ہو جاتا ہے، تو میچ ریفری نامزد 5 کھلاڑیوں میں سے کسی کو منظوری دے سکے گا لیکن شرط یہ ہوگی کہ وہ اسکی طرح کے پلئیر کا متبادل ہو۔
دوسری جانب پلئینگ کنڈیشنز میں کچھ تبدیلیاں کرکے نئے قوانین متعارف کروانے کا خیر مقدم کیا جارہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔