اسلام آباد:وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آپریشن بُنیان المرصوص کے دوران بلوچستان پر 32 حملے کیے گئے، جس طرح ہندوستان کو شکست ہوئی اسی طرح بلوچستان میں بھارت کی پراکسیز کو بھی شکست ہوگی اور بلوچستان میں امن واپس لوٹے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت فرسٹریشن کا شکار ہے، اسے جنگ میں اور بیانیے دونوں میں شکست ہوگئی، فیلڈ مارشل نے انہیں جو مار کھلائی ہے اور جو انہیں بری شکست ہوئی ہے تو ان کے پاس بات کرنے کے لیے کچھ نہیں، ان کے اپنے لوگ ان سے سوال کررہے ہیں اور وہ اپنی خفت مٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جز بنایا ہوا ہے، کینیڈا میں سکھ رہنما کا قتل اس کا ثبوت ہے، اسی طرح بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان موجود ہے، کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا حاضر سروس آفیسر ہے جو خود کو کاروباری شخص ظاہر کرکے پاکستان میں دہشت گردی کرارہا تھا، کلبھوشن اسی خارجہ پالیسی کے تحت یہاں دہشت گردی کررہا تھا، ان کے وزرا اور مودی ہمیشہ اپنی تقاریر میں ہمیشہ بلوچستان کا ذکر کرتے ہیں کیوں کہ ان کے ہینڈلر یہاں کارروائیاں کرتے ہیں، فتنۃ ہندوستان سے ہماری فورسز بڑے طریقے سے نمٹ رہے ہیں۔

عطا تارڑ نے کہا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں پٹڑی کو اڑاتے ہوئے دکھایا گیا ہے وہ فوٹیج پاکستان میں موجود نہیں تھی بھارتی میڈیا پر پہلے آگئی، جعفر ایکسپریس حملے پر بھارت میں خوشیاں منائی گئیں، چند بلوچ دہشت گردوں کو بھارتی میڈیا خوب نمایاں کرتا ہے، بھارتی میڈیا بھرپور طریقے سے فیک نیوز کا سہارا لیتا ہے نور ولی دہشت گرد کے لیے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ نہیں چلنا چاہیے تھا وہ دہشت گرد ہے، انڈین میڈیا انہیں سیلیبریٹ کرتا ہے۔

وزیر اطلاعات اس موقع پر انہوں نے ایک ویڈیو پیش کی۔ جس میں بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے حقائق پیش کیے گئے، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت متعدد بھارتی وزرا کے بلوچستان سے متعلق بیانات، میڈیا کی خبریں دکھائیں گئیں۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن بُنیان المرصوص کے دوران بلوچستان پر 32 حملے کیے گئے، جس طرح ہندوستان کو شکست ہوئی پاکستان ان کی پراکسیز کو بھی شکست دے گا اور بلوچستان میں امن واپس لوٹے گا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچستان میں نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار