پاکستان کی مقبول ترین اداکارہ ماہرہ خان اور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے درمیان کافی عرصے سے اختلافات تھے لیکن حال ہی میں ماہرہ خان نے اس تنازعے پر خاموشی توڑے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور کہا کہ خلیل الرحمٰن قمر کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر وہ غلط تھیں، وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بجائے انہیں فون کرکے شکایت کرتیں تو بہتر تھا۔

ماہرہ خان نے بتایا کہ ان کی والدہ نے بھی سمجھایا کہ وہ ٹوئٹ کرنے کے بجائے خلیل الرحمٰن قمر کو کال کرکے اپنا شکوہ ریکارڈ کرواتیں کہ آپ نے غلط کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان نے خلیل الرحمٰن قمر پر ٹوئٹ کو غلطی قرار دے دیا

اب حال ہی میں خلیل الرحمن قمر نے کہا کہ ماہرہ خان نے ایک پوڈ کاسٹ میں تسلیم کیا کہ انہیں میرے خلاف ٹوئٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں ماہرہ خان کی بہت عزت کرتا ہوں، میرا اور ان کا عزت کا تعلق ہے۔

ڈرامہ نگار نے کہا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کا اتنا احترام کرتے تھے کہ مجھے ان سے توقع نہیں تھی کہ وہ میرے خلاف ایسی بات کریں گی۔ خلیل الرحمن کا کہنا تھا کہ ماہرہ خان مجھے فون کر کے ڈانٹ سکتی تھی پھر میں اس کو بتاتا کہ کیا وجہ تھی جو میں اتنا بولا۔

خلیل الرحمن قمر نے کہا کہ ماہرہ خان ہمیشہ سے میری پسندیدہ اداکارہ رہی ہیں۔ میں غصے میں ان کے خلاف بات کرتا تھا تب بھی مجھے تکلیف ہوتی تھی اس لیے مجھے وہ ٹوئٹ آج تک تکلیف دیتا تھا لیکن جب میں نے ماہرہ خان کا پوڈ کاسٹ دیکھا تو میں نے اس کو میسج کیا کہ میرے تمام شکوے ختم ہوئے۔

واضح رہے کہ مارچ 2020 میں خلیل الرحمن قمر نے ایک ٹی وی شو میں سماجی رہنما ماروی سرمد کے خلاف نامناسب زبان کا استعمال کیا تھا اور ان کے بیان پر ماہرہ خان نے ٹویٹ کی تھی۔

اپنی ٹویٹ میں ماہرہ خان نے لکھا تھا کہ وہ ٹی وی اسکرین پر عورتوں کی تضحیک کرنے والے شخص کی جانب سے ماروی سرمد کے لیے کہے گئے الفاظ پر حیران ہیں۔ اداکارہ نے ڈراما نگار کے نام کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ وہی شخص ہیں، جنہیں عورتوں کی تضحیک کے بعد ایک کے بعد ایک منصوبہ دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمان قمر کا یوٹرن، ماہرہ خان کو اپنی فلم میں ہیروئن لینے کا اعلان

بعد ازاں اپریل 2021 میں خلیل الرحمٰن قمر نے ماہرہ خان کی جانب سے اپنے خلاف ٹویٹ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ماہرہ خان کی جانب سے ان کے خلاف مئی 2020 میں کی جانے والی ٹویٹ کو ’نامناسب و چونکا دینے‘ والی تھی۔

خلیل الرحمٰن قمر نے ماہرہ خان کے ساتھ کام کرنے کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا تھا۔ خلیل الرحمٰن قمر نے مختلف انٹرویوزمیں ماہرہ خان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا۔ خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ جب تک ماہرہ خان ان سے سر عام معافی نہیں مانگیں گی وہ کبھی ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔

خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ ڈرامہ ’صدقے تمہارے‘ میں ماہرہ خان کو کاسٹ کیا جانا گناہ تھا اور وہ اس گناہ پر ہمیشہ ملامت کرتے رہیں گے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستانی ڈرامے خلیل الرحمن قمر ماہرہ خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے خلیل الرحمن قمر ماہرہ خان خلیل الرحم ن قمر خلیل الرحمن قمر میں ماہرہ خان ماہرہ خان نے کہ ماہرہ خان کہنا تھا کہ ن قمر کا کے خلاف کہا کہ

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش