مستقبل میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتا ہے ‘ آصف علی زرداری
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 جون2025ء) صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو سینٹرل پنجاب میں بہتر پوزیشن پر لانے کی کوشش کریں گے،جنوبی پنجاب تنظیم کی کارکردگی قابل اطمینان ہے۔
(جاری ہے)
وہ گورنر ہائوس لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر مرحوم شیخ رفیق احمد کی صاحبزادی ڈاکٹر حمیرہ راشد ،ڈاکٹر راشد ضیا، ڈاکٹرمکرمہ راشد اور فرخ مرغوب صدیقی پر مشتمل وفد سے گفتگو کر رہے تھے،اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود اور عبدالقادر شاہین بھی موجود تھے۔
صدر آصف زرداری نے کہا کہ پنجاب میں شیخ رفیق احمد کے دور صدارت میں رحیم یار خان سے اٹک تک پوری تنظیم سرگرم ہوتی تھی۔وفد نے صدر سے مطالبہ کیا کہ پنجاب کی تنظیم ایک کر دی جائے جس پر صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل میں جنوبی پنجاب الگ صوبہ بن سکتا ہے اس لیے اب ایسا ممکن نہیں ۔ انہوں نے شیخ رفیق احمد کی پارٹی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر فاروق لغاری کی جگہ ہم شیخ رفیق کو صدر بناتے تو پیپلز پارٹی کبھی مشکلات کا شکار نہ ہوتی اور پارٹی میں کوئی غداری کرنے کی جرات نہ کرتا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پیپلز پارٹی شیخ رفیق
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔