Juraat:
2026-06-03@06:59:33 GMT

جیت کے بعدکامرحلہ

اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT

جیت کے بعدکامرحلہ

حمیداللہ بھٹی

مارک کارنی ایک حقیقت پسند شخصیت ہے وہ دوبینکوں میں طویل عرصہ خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ لہٰذا بھائو تائو اور تعلقات بنانے کے اسرار و رموزبخوبی جانتے ہوں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُن کا اقتدار کئی حوالوں سے غیر متوقع ہے ۔جسٹن ٹروڈو کی غیر معقول پالیسیوں نے لبرل پارٹی کو غیر مقبول بنادیاتھا پھررواں برس کے آغازپرٹرمپ نے صدر بن کر کینیڈا سے اپنے ملک کی 51ویں ریاست بننے کامطالبہ کردیا ۔اوول آفس میں ٹروڈوکوساتھ بٹھا کرٹرمپ کاانھیں گورنر کہنا اورپھر بار بار انضمام کی پیشکش دُہراناایک سربراہ مملکت کی واضح توہین تھی۔ ٹرمپ کے اِس انداز سے بظاہر ڈٹ جانے والے ٹروڈو اندرسے خوفزدہ ہوگئے کیونکہ امریکہ اور کینیڈا میں دفاعی حوالے سے زمین آسمان کا فرق ہے ٹرمپ کی سمجھ نہ آنے والی طبیعت کہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن جائے، ایسے ہی خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دیکر مارک کارنی کے لیے اقتدارکی راہ ہموار کردی۔ اِس طرح وزیرِ اعظم کامنصب مارک کارنی کے حصے میں آ گیا جس کے بعد حالات یکدم پلٹاکھانے لگے اور مقبولیت سے محروم ہوتی لبرل پارٹی دوبارہ عوام میں مقبول ہونے کے زینے طے کرنے لگی۔
رواں برس اپریل میں جب ملک میں عام انتخابات کی مُہم کا آغازہوا تو ابتدائی جائزوں کے مطابق لبرل پارٹی کی مقبولیت محض سولہ فیصد رہ گئی تھی۔ اپنے اقتدار کے آخری ایام میں کوئی اور چارہ نہ پاتے ہوئے گزشتہ دس برس سے وزیرِ اعظم کے منصب پر فائز جسٹن ٹروڈو نے داخلی مسائل سے ہٹ کر خارجی مسائل کوجب موضوع گفتگو بنانا شروع کردیااور کینیڈا کے ادغام کی ٹرمپ پیشکش کو ناقابلِ قبول اورگورنر کہنے کے عمل پر ناپسندیدگی ظاہر کرنے لگے تواُن کا یہ عمل کینیڈین شہریوں کو بھلا لگا جس سے لبرل پارٹی کی طرف لوگ دوبارہ متوجہ ہونے لگے مگر جیت کے لیے یہ مقبولیت پھر بھی ناکافی تھی مگر جب جسٹن ٹرودو نے اقتدار اور جماعت کی سربراہی چھوڑنے کا فیصلہ کیاتاکہ نئی قیادت آگے آکر نئے حالات کے مطابق پالیسیاںبنا سکے تویہ فیصلہ ملک کے سیاسی حالات کا دھاراموڑ نے کاسبب بن گیااور پیشگی جائزے بھی تیزی سے بہتر ہونے لگے۔ آخر کار اٹھائیس اپریل کو ملک میں قومی انتخابات ہوئے تو صرف چارماہ قبل عدم مقبولیت کا شکار جماعت 43فیصد ووٹ لیکرپارلیمان کی سب سے بڑی جماعت کی حثیت سے سامنے آئی اور اقتدار کی تاک میں بیٹھی اپوزیشن ایسی حالت سے دوچارہے کہ اپوزیشن رہنما پولیور اپنی ذاتی نشست پر بھی شکست کھا چکے ہیں ۔در اصل جب کوئی ملک بیرونی خطرے سے دوچار ہوتا ہے تو سیاسی حوالے سے منقسم عوام داخلی مسائل کوغیر اہم جان کر پس پشت ڈالتے ہوئے قومی یکجہتی کے تقاضوں کوپوراکرنے کی کوشش کرتی ہے یہی کچھ کینیڈا میں ہوا ۔
لبرل پارٹی کے دورِ اقتدارکو اگر کینیڈا میں سماجی بہبود کے حوالے سے دیکھا جائے تو کسی طوربہتر یا درست نہیں کہا جا سکتا۔ بدترین داخلی مسائل نے عوام کو تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماضی کے خوشحال کینیڈا کواب معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ صحت و تعلیم کے مسائل بڑھے ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ کہ حکومت نے محصولات کی بڑھوتری سے شہریوں پر مزید بوجھ ڈالتی گئی جن ممالک میں جمہوریت رائج ہے وہاں کے انتخابی نتائج پر داخلی مسائل اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ایسا کینیڈا میں کیوں نہیں ہوا،یہ جاننے کے لیے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ کی جارحانہ سوچ اور دھمکیوں نے لبرل پارٹی کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی نئی روح پھونکی اور عوام کی اکثریت نے لبرل پارٹی کے اقتدار میں معاشی اور سماجی بہبود کے نمو پاتے مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لبرل پارٹی کا ڈٹ جانے کا سیاسی بیانیہ پسند کرلیا ۔ٹرمپ کب کیا کربیٹھیں اِس بارے وثوق سے کوئی بھی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔سچ تو یہ ہے کہ اُن سے دنیا خوفزدہ ہے مگر کبھی کبھی شر سے خیر بھی سامنے آجاتا ہے جس کی نظیر کینیڈا کے قومی انتخابات ہیں ۔اِس حقیقت سے کوئی صرفِ نظر نہیں کر سکتاکہ دراصل ٹرمپ کے خیالات کو عوام کی اکثریت نے رَد کردیا اور ڈٹ جانے کا بیانیہ لبرل پارٹی کے لیے سود مند ثابت ہوا ہے۔
ماضی کے بینکارمارک کارنی نقصان کو نفع میں بدلنے پر قادر ہیں یا نہیں ،یہ جاننے کے لیے لوگ بے چین ہیں ۔اِس وقت کینیڈا کو کئی ایک داخلی و خارجی مسائل کا سامنا ہے ۔ایک طرف ٹرمپ کو یقین دلانا ہے کہ کینیڈا جیساایک آزاد وخود مختار ملک امریکہ کا اتحادی اور شراکت دار تو ہو سکتا ہے ضم نہیں ہو سکتااور اگر انضمام پر زیادہ مجبور کیا جا تا ہے تو باہمی تعلقات متاثر ہونا یقینی ہے۔ ایسا ہوتا ہے تو دفاعی تیاریوں کے لیے خطیر رقم مختص کرنا پڑے گی۔ یوں لامحالہ ملک کے اندر جاری سماجی بہبود کے منصوبے متاثر ہوں گے۔ یہ ماضی سے ایک بالکل مختلف نوعیت کی صورتحال ہوگی۔ علاوہ ازیں ملک کے اندر امن و امان کی فضا برقراررکھنے کے لیے بھی کینیڈا کو نئے سرے سے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی درکارہے جو بھارت کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر سکھوں کونشانہ بنانے کے حوالے سے لاحق خطرات کا توڑثابت ہو ۔کیونکہ موجودہ صورتحال میں ملک میں آبادہر شہری کو آزاد ماحول میں زندگی بسر کرنے کا حق حاصل نہیں۔ سکھ رہنما خوف کا شکارہیں ۔کینیڈامیں آباد سکھوں کوبھارتی حکومت کی ایما پر نشانہ بنایا جارہاہے جس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی راملوث ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مارک کارنی درپیش اندرونی اور بیرونی محاذپر کس حدتک کامیاب ہوتے ہیں؟اُن کا دورہ امریکہ زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ بدھ کے روز سات مئی کو پاس بٹھا کر ٹرمپ نے جب اُنھیں انضمام کی اپنی خواہش سے آگاہ کیااور عوضانے میں دفاعی نظام مفت دینے کی پیشکش کی تو بظاہر مارک کارنی نے کینیڈا بیچنے کے لیے نہیں رکھا، جیساطنزیہ جواب دے کر مغرورٹرمپ کوراہ راست پر لانے کی کوشش کی جس کا کچھ اثر بھی دیکھنے میں آیا۔اِس غیر متوقع جواب پر دوستی اور پیار جیسی باتیں کی گئیں مگر اِس دبائو سے مستقل کیسے چھٹکاراحاصل کرنا ہے؟ یہ مارک کارنی کی صلاحیتوں کا متحان ہے۔ اسی طرح بھارت سے بھی مارک کارنی کو محتاط رہنا ہوگا۔ انھوں نے کینیڈا میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت کا تادم تحریر مودی کو دعوت نامہ نہیں بھجوایا جس سے امکان ہے کہ شاید چھ برس کے بعد پہلی بار مودی ممکنہ طور پر سربراہی اجلاس میں شریک نہ ہوسکیں۔ یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتے تنائو کی طرف اِشارہ ہے۔ ٹرمپ اور مودی کی طرف سے کینیڈا کو درپیش خطرات کاتوڑکرنے کے ساتھ مارک کارنی نے اپنے ملک کی عوام کااعتمادبھی بحال رکھنا ہے۔ وہ کوئی نو عمریاناتجربہ کار نہیں بلکہ ایک جہاندیدہ شخص ہیں۔ وہ امریکی اور بھارتی ریشہ دوانیوں کے تناظر میں عالمی سطح پر ہم خیال نئے اتحادیوں کی تلاش کابخوبی ادراک رکھتے ہوں گے۔ اِس میں وہ کامیاب ہوں گے یا لبرل پارٹی کودوبارہ غیر مقبول بنانے کاسبب بنیں گے ؟ کا درست جواب بطوروزیرِ اعظم اُن کی کارکردگی دیکھ کر ہی دیا جا سکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: لبرل پارٹی کے داخلی مسائل مارک کارنی کینیڈا میں کینیڈا کو حوالے سے ہوں گے کی طرف کے لیے

پڑھیں:

انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے

والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔

ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم

عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔

ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا

رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔

President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.

The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI

— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026

صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔

محکمۂ خزانہ کی کارروائیاں

وائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر

ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔

اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع

حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔

مسئلے کا حجم

امریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم

امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔

حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی

اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ

آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔

آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا

اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو