پارٹی قوائد کی خلاف ورزی پر بی این پی کے ایم پی اے جہانزیب مینگل کو شوکاز نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, June 2025 GMT
نوٹس کے مطابق جہانزیب مینگل نے اسمبلی میں موثر آواز نہیں اٹھائی، پارٹی اجلاسوں سے غیر حاضر رہیں، جبکہ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرتے رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچستان اسمبلی کے رکن جہانزیب مینگل کو پارٹی قوائد کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 دنوں میں جواب طلب کر لیا۔ بی این پی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری ملک نصیر شاہوانی کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ جہانزیب مینگل نے بی این پی کے رکن اسمبلی کی حیثیت سے صوبائی اسمبلی میں موثر آواز بلند نہیں کیا۔ پارٹی کے اجلاسوں میں غیر حاضر رہیں، جبکہ پارٹی سے مشاورت کے بغیر حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ نوٹس کے مطابق 15 یوم کے اندر تحریری جواب ارسال نہ کرنے کی صورت میں جہانزیب مینگل کے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں منعقد ہونے والے حکومتی جرگے میں جہانزیب مینگل بھی شریک ہوئے تھے، جس کے باعث بی این پی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جہانزیب مینگل بی این پی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔