صدر ٹرمپ نے ثابت کردیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 4th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کردیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں منعقدہ امریکہ کی آزادی کی 249 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت، سفارت خانے اور امریکی عوام کو آج کے دن کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، پاک امریکا تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، دونوں ملک جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے مختلف امریکی منصوبے قریبی تعلقات کے عکاس ہیں، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی ، 2018ء میں پاکستان نے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی مالی نقصان اٹھایا، 90 ہزار سے زائد شہادتیں اور 150 ارب ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہماری توجہ معیشت کو مضبوط بنانے پر ہے، ہم نے پہلگام واقعے پر بھارت کو غیر جانبدارانہ عالمی انکوائری کی پیشکش کی، ہماری مخلصانہ پیشکش کے جواب میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، بھارت نے حملے کر کے پاکستان میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت کے 6 جہاز مار گرائے۔
تربت سے اسسٹنٹ کمشنر کو اغوا کرلیا گیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن تھا ،پاکستان نے دنیا کے سامنے اس کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے اور اس حوالے سے شفاف تحقیقات کی پاکستان کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 6اور7مئی کی رات کو بھارت نے ہماری سویلین آبادی پر حملہ کیا جس میں کئی لوگ شہید ہوئے، ہم نے اپنے دفاع میں بھارت کے چھ طیارے مار گرائے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کا خواہش مند رہا ہے، کوئی شک نہیں رہا کہ پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، پاکستان نے کشیدہ صورتِ حال میں بھی بہت تحمل کا مظاہرہ کیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سرد اور گرم جنگ کے خلاف ہیں، جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو سراہتے ہیں، امن کے فروغ، اقتصادی روابط میں اضافے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے دوست ملکوں کے شکرگزار ہیں، صدر ٹرمپ نے ثابت کیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر عمل ہو رہا ہے ، امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ٹیرف کے مسئلے سمیت تجارت میں اضافے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ہم جنس پرست خاتون نے گود لیے گئے 6 بچوں سمیت خود کشی کرلی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف انہوں نے کہا نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاکستان ا کے لیے امن کے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔