اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار کو سراہتے ہیں،  صدر ٹرمپ نے بغیر کسی شبے کے ثابت کردیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے میں منعقدہ  امریکہ کی آزادی کی 249 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  امریکی حکومت، سفارت خانے اور امریکی عوام کو آج کے دن کی مبارک باد پیش کرتا ہوں، پاک امریکا تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، دونوں ملک جمہوری روایات اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، امریکا پاکستان کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ممالک میں شامل تھا۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے مختلف امریکی منصوبے قریبی تعلقات کے عکاس ہیں، نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ شروع ہوئی ، 2018ء میں پاکستان نے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا تھا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی مالی نقصان اٹھایا، 90 ہزار سے زائد شہادتیں اور 150 ارب ڈالرز سے زائد کا معاشی نقصان ہوا، انسدادِ دہشت گردی کے لیے پاکستان کی قربانیاں کسی سے کم نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہماری توجہ معیشت کو مضبوط بنانے پر ہے، ہم نے پہلگام واقعے پر بھارت کو غیر جانبدارانہ عالمی انکوائری کی پیشکش کی، ہماری مخلصانہ پیشکش کے جواب میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا، بھارت نے حملے کر کے پاکستان میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا، پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت کے 6 جہاز مار گرائے۔

تربت سے اسسٹنٹ کمشنر کو اغوا کرلیا گیا

وزیر اعظم شہباز شریف  نے کہا کہ  کوئی شک نہیں کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن تھا ،پاکستان نے دنیا کے سامنے اس کے ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے اور اس حوالے سے شفاف تحقیقات کی پاکستان کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 6اور7مئی کی رات کو بھارت نے ہماری سویلین آبادی پر حملہ کیا جس میں کئی لوگ شہید ہوئے، ہم نے اپنے دفاع میں بھارت کے چھ طیارے مار گرائے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور خوش حالی کا خواہش مند رہا ہے، کوئی شک نہیں رہا کہ پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا، پاکستان نے کشیدہ صورتِ حال میں بھی بہت تحمل کا مظاہرہ کیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ سرد اور گرم جنگ کے خلاف ہیں، جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے اہم کردار کو سراہتے ہیں، امن کے فروغ، اقتصادی روابط میں اضافے کے لیے صدر ٹرمپ کی کوشش قابلِ ستائش ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے دوست ملکوں کے شکرگزار ہیں، صدر ٹرمپ نے ثابت کیا کہ وہ امن کے پیامبر ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی پر عمل ہو رہا ہے ، امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، ٹیرف کے مسئلے سمیت تجارت میں اضافے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ہم جنس پرست خاتون نے گود لیے گئے 6 بچوں سمیت خود کشی کرلی

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف انہوں نے کہا نے کہا ہے کہ پاکستان نے پاکستان ا کے لیے امن کے

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ