اسلام آباد:

پاکستان کی غیر رسمی معیشت کا تخمینہ 140 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف ایک اہم معاشی فیصلے کے دہانے پر کھڑے ہیں یا تو وہ عوام کو کم ٹیکس کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ترغیب دیں، یا پھر نقد لین دین پر اضافی قیمتیں وصول کر کے کیش کے استعمال کی حوصلہ شکنی کریں۔

ذرائع کے مطابق کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ماہرین کی کمیٹی نے اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کر دی ہیں، کمیٹی نے ’’گاجر اور چھڑی‘‘ کی پالیسی پر مبنی تجاویز دی ہیں، جن میں رعایت اور جرمانے دونوں شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم ترغیبی پالیسی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو انھیں سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی میں واضح کمی کرنا ہو گی۔

دوسری صورت میں نقد ادائیگی کرنے والے افراد کو حکومتی واجبات، ایندھن اور یوٹیلیٹی اشیا کی خریداری پر زیادہ ادائیگی کرنا پڑے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 10 جون کو بجٹ پیش کریں گے، جس میں حکومت کی ترجیحات اور نقد کے خلاف ممکنہ اقدامات کا اعلان متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف؛ منقولہ اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کی تجویز مسترد، ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس کی اجازت

کمیٹی نے پہلی اہم تجویز میں ضلعی انتظامیہ کو اختیار دینے کی سفارش کی ہے کہ وہ تمام ریٹیل دکانوں پر RAAST  QR کوڈ کی تنصیب کو یقینی بنائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کریڈٹ کارڈ مشینیں صرف 50 ہزار ہیں جبکہ ریٹیل دکانوں کی تعداد 50 لاکھ ہے، اس لیے حل QR کوڈ میں ہے نہ کہ مہنگے کریڈٹ کارڈ سسٹم میں۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 18 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کیا جائے اور ان ادائیگیوں پر تین سال تک ٹیکس آڈٹ سے استثنیٰ دیا جائے۔

کمیٹی کی دوسری تجویز میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ نقد ادائیگیوں کو مہنگا کرے اس کے تحت حکومت سے متعلق واجبات کی نقد ادائیگی پر سرچارج لگایا جائے اور کیش آن ڈیلیوری پر کسی قسم کی سیلز ٹیکس چھوٹ نہ دی جائے۔ یہاں تک کہ پٹرول پر نقد ادائیگی کی صورت میں فی لیٹر تین روپے اضافی وصولی کی تجویز دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے بجٹ کے تمام مراحل اسٹاف لیول معاہدے سے مشروط کردیے

کمیٹی نے زور دیا ہے کہ حکومت اپنی تمام ادائیگیاں خواہ وہ بی آئی ایس پی کے مستحقین کو ہوں یا ٹھیکیداروں کو  ڈیجیٹل طریقے سے کرے۔

کمیٹی نے ایف بی آر سے جب ٹیکس کمی کی تجویز پر بات کی تو اس نے موقف اپنایا کہ آئی ایم ایف مخالفت کرے گا تاہم جب کمیٹی نے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس پر اعتراض نہیں کیا ،ٹیلی کام کمپنیوں نے موجودہ ٹیکس پالیسیوں کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 4 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ ایبل بنایا جائے۔

مزید برآں 75 فیصد ایڈوانس ٹیکس اور غیر فائلرز کی سم بلاکنگ جیسی سزا دینے والی پالیسیاں بھی ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولی کے پیچیدہ نظام اور ہر ٹرانزیکشن پر ٹیکس کی کٹوتی سے ان کا انتظامی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انکم ٹیکس کو دوبارہ ایڈجسٹ ایبل کیا جائے تاکہ نقصانات کے باوجود کم از کم ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنی پڑے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نقد ادائیگی کمیٹی نے ایم ایف ٹیکس کی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف