واشنگٹن‘ نیویارک‘ اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ نمائندہ خصوصی) چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کی واحد ضمانت مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہے۔ بلاول بھٹو نے یہ بات نیویارک کے کارنیل کلب میں اوورسیز پاکستانی سوسائٹی اور امریکا میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کے اجتماع سے خطاب میں کہی۔ پاکستانی وفد کی واشنگٹن روانگی سے پہلے نیویارک شہر میں اس عوامی تقریب کا اہتمام امریکن پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے غلام اللہ شہزاد اور عمران اگرا نے کیا تھا۔ تقریب میں پاکستان کے 9 رکنی وفد میں شامل شیری رحمان، حنا ربانی کھر، جلیل عباس جیلانی، مصدق ملک، خرم دستگیر خان، فیصل سبزواری، بشری انجم بٹ اور تہمینہ جنجوعہ نے بھی شرکت کی جبکہ امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ بیرون ملک زیر تعلیم ہونہار پاکستانی طلبہ و طالبات ہمارا روشن مستقبل ہیں، وہ ہر شعبے میں وطن کا نام پیدا کریں۔ بلاول بھٹو نے پاکستانی سوسائٹی اور طلبہ کو بھارت کی کھلی جارحیت سے آگاہ کیا اور انہیں بتایا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طورپراستعمال کررہا ہے جبکہ جنگ کے دوران اس نے عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ یہ بھی کہا کہ کس طرح افواج پاکستان نے دندان شکن جواب دے کر بھارت کو چاروں شانے چت کیا۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ امن، تحمل اور ڈائیلاگ ہی آگے بڑھنے کا واحد رستہ ہے۔ تقریب سے خطاب میں شیری رحمان اور دیگر نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر عزت اور توقیر پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کرے گا۔ نیویارک میں پاکستان کے کمیونٹی رہنما عمران اگرا نے کہا کہ وفد کی پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات نے لوگوں کو وفد کے دورے کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دی اور امید ظاہر کی کہ امریکن پاکستانی بھی اس موقف کی مضبوط آواز بنیں گے۔ علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو کا کہنا تھا ہم اس وقت کسی سیاسی جماعت نہ کسی ذاتی مقصد کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہماری یہ جدوجہد ملک کیلئے ہے‘ ہم امن کا پیغام لیکر آئے ہیں۔ دریں اثناء بلاول بھٹو نے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کو انٹرویو میں دورے کے مقاصد اور پائیدار امن کے حوالے سے پاکستان کا نقطہ نظر بھرپور انداز میں پیش کیا۔ معروف خبر رساں ایجنسی  اے ایف پی سے بات چیت کی اور جنگ بندی میں اہم کردار ادا کرنے پر امریکی قیادت کی کاوشوں کو سراہا۔ امریکی نشریاتی ادارے بلوم برگ کو انٹرویو دیا۔ پاکستانی وفد کے سربراہ امریکی کانگریس میں پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین اور ممبران سے ملاقات کریں گے۔ کانگریس  اراکین اور امریکی سینیٹرز  سے بھی ملاقات کریں گے۔  بلاول بھٹو  زرداری معروف امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کریں گے۔  امریکہ میں مقیم  پاکستانی کمیونٹی رہنماؤں سے ملاقات بھی وفد کی مصروفیات میں شامل ہے۔ قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری سمیت پاکستان کا 9 رکنی سفارتی وفد ٹرین کے ذریعے واشنگٹن پہنچا۔ وفد کا واشنگٹن کے ریلوے سٹیشن پر پاکستان کے سینئر سفارتی عملے نے استقبال کیا۔ ذرائع کے مطابق 9 رکنی وفد 6 جون تک واشنگٹن میں قیام کرے گا۔ وفد امریکی حکام اور تھنک ٹینک کے سامنے پاکستان کا مقدمہ پیش کرے گا۔ بھارت کی آبی جارحیت اور اشتعال انگیزی سے امریکی حکام کو آگاہ کریں گے۔  بلاول بھٹو مسئلہ کشمیر حل کرنے کی پیشکش پر ٹرمپ انتظامیہ کا شکریہ ادا کریں گے اور ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیں گے کہ مسئلہ کشمیر کا پْرامن حل یقینی بنائیں اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہو۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ مجھے پورا یقین ہے کہ اگر آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ بیٹھ کر، مل کر ان قوتوں کے خلاف کام کریں تو ہم بھارت اور پاکستان دونوں میں دہشتگردی میں نمایاں کمی دیکھیں گے۔ دہشتگردوں کیخلاف آئی ایس آئی اور ’’را‘‘ مل کر کام کریں۔ انہوں نے یو این ہیڈکوارٹرز میں نیوز کانفرنس کے دوران اپنی تجویز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں میں دہشتگردی میں کمی آسکتی ہے۔ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں۔ امن مذاکرات سفارتکاری سے ہی ممکن ہیں۔ دریں اثناء اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے دورے کے دوران پاکستان کا بنیادی پیغام ’’ذمہ داری کے ساتھ امن‘‘ پیش کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وفد نے بھارت کی جانب سے طاقت کے غیر قانونی استعمال، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی توجہ دلائی۔ جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ بھارت نے بغیر ثبوت کے شہری علاقوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی وفد نے بھارت کے بے بنیاد الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر نیویارک کا دو روزہ دورہ مکمل کیا۔ بیان کے مطابق وفد نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے صدر، مستقل اور غیر مستقل ارکان کے نمائندوں، او آئی سی گروپ کے سفیروں، ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی، تھنک ٹینکس اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں کیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستانی کمیونٹی اقوام متحدہ کے مسئلہ کشمیر کا بلاول بھٹو نے میں پاکستان پاکستان کے پاکستان کا سے ملاقات کے مطابق بھارت کی کریں گے وفد نے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو