گلگت بلتستان کے تمام سرکاری دفاتر میں بائیو میٹرک حاضری نظام نافذ
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اس حوالے سے سیکریٹری سروسز عثمان احمد نے بتایا کہ یہ نظام ملازمین کی ذمہ داری میں اضافہ اور جزا و سزا کے عمل کو شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت گلگت بلتستان نے گورننس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے سلسلے میں ایک نمایاں قدم اٹھاتے ہوئے تمام سرکاری دفاتر میں بائیو میٹرک حاضری نظام نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سرکاری اداروں میں شفافیت، جوابدہی اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی زیر صدارت حالیہ سیکریٹریز کمیٹی اجلاس میں تمام انتظامی سیکریٹریز اور سینئر افسران کو ہدایت دی گئی کہ وہ سرکاری نظام میں جامع اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے سمیت بائیو میٹرک حاضری، جیو فینسنگ،اور انٹرنیٹ سے منسلک ایپلیکیشنز کے ذریعے دفتری نظم و نسق میں جدت لائیں۔ اس حوالے سے سیکریٹری سروسز عثمان احمد نے بتایا کہ یہ نظام ملازمین کی ذمہ داری میں اضافہ اور جزا و سزا کے عمل کو شفاف بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے مذید کہا کہ بائیو میٹرک نظام اور ای فائلنگ کے امتزاج سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہو گی، بلکہ غیر حاضر یا غیر فعال عملے کی نشاندہی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔