موٹرویز پر سفر کرنے والوں کیلئے اہم خبر
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
سٹی 42 : نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے عید کے موقع پر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی گئی ۔
ٹریول ایڈوائزری کے مطابق عید کے موقع پر لوگ اپنے آبائی علاقوں کی جانب سفر کرتے ہیں اور ٹریفک کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے، چند احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنا سفر محفوظ اور آرامدہ بنائیں، سفر شروع کرنے سے پہلے گاڑی کا انجن ائل، پانی، ٹائر پریشر اور بریک چیک کر لیں، دوران ڈرائیونگ سیٹ بیلٹ کا استعمال حد رفتار کی پابندی،اگلی گاڑی سے محفوظ فاصلہ اور لین اور لائن کا خیال رکھیں، لمبے سفر سے پہلے ڈرائیور مکمل فریش ہونا اور دو سے ڈھائی گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد کچھ وقت آرام کرنا ضروری ہے ۔ نیند یا غنودگی کی حالت میں ہرگز ڈرائیو نہ کریں ۔
صدرِ مملکت سے سردار سلیم حیدر سمیت پارٹی رہنماؤں کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
ترجمان نیشنل ہائی ویز ائیڈ موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ مسافر بردار گاڑیوں میں سفر کرنے والے اوورلوڈنگ اور اوور چارجنگ کی شکایت موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130پر کر سکتے ہیں۔کسی بھی مدد کی صورت میں موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ آپ کی مدد اور محفوظ سفر کے لیے ہر دم تیار ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: موٹروے پولیس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔