موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 100 ارب روپے مختص کردیے گئے، مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب کا بھیس بدل کر اسپتالوں کا دورہ، سینیئر وزیر نے کیا دیکھا؟
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ ماضی میں محکمہ ماحولیات پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی تاہم اب وزیراعلیٰ مریم نواز نے محکمے کو 20 ارب روپے کا فنڈ فراہم کیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلینج سے نمٹنے کے لیے پلانٹ فار پاکستان منصوبے کےتحت اقدامات جاری ہیں، ایئرکوالٹی انڈیکس کی مانیٹرنگ کیلئے50 ایئرمانیٹرز لگائے گئے ہیں اور انوائرمنٹل فورس کو ضروری سامان سے لیس کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: عوام نامعلوم ذرائع سے آنی والی غیر مصدقہ اطلاعات آگے پھیلانے سے اجتناب کریں، مریم اورنگزیب
انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی آئندہ نسلوں کےلیےچھوڑکر جانا ہے جس کے لیے آج پلاننگ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صاف پانی لائف لائن ہے، ذخائر بڑھانے کے جلد اقدامات کرنے ہوں گے اور پانی کا ضیاع بھی روکنا ہوگا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ ستھرا پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز کی پہلی ترجیح ہے اور صاف پانی کے لیے ای میپنگ کرکے ماسٹر پلان بھی بنالیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کی گلیاں اکھڑی ہوئی ہیں کیونکہ پانی اور سیوریج کا انتظام کیاجارہا ہے جنہیں بہتر کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب موسمیاتی تبدیلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب موسمیاتی تبدیلی مریم اورنگزیب نے کہا موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔