پاکستان میں غربت کا شکار آبادی 39.8 سے بڑھ کر 44.7 فیصد ہو گئی، عالمی بینک
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
اسلام آباد: عالمی بینک نے دنیا بھر میں غربت جانچنے کا پیمانہ تبدیل کر دیا جس کے بعد پاکستان میں غربت کا شکار آبادی 39.8 سے بڑھ کر 44.7 فیصد ہو گئی۔
پاکستان سمیت لوئر مڈل انکم ممالک میں یومیہ آمدن کی حد 4.20 ڈالر مقرر کی گئی ہے، اس سے پہلے یومیہ 3.65 ڈالر سے کم کمانے والے خط غربت میں آتے تھے۔
نئے طریقہ کے مطابق پاکستان کی 44.
نجی ٹی وی کے مطابق نئے پیمانہ کے مطابق 10 کروڑ 79 لاکھ 50 ہزار پاکستانی غربت کا شکار ہیں، طریقہ بدلنے سے لوگوں کے معیار زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں یومیہ 1200 روپے سے کم کمانے والے غریب کہلائیں گے، حکومت نے تاحال نئی مردم شماری کے نتائج فراہم نہیں کیے۔
غربت جانچنے کیلئے نئی مردم شماری نہیں بلکہ 19-2018 کا پرانا ڈیٹا استعمال ہوا، انتہائی غربت کا پتہ لگانے کیلئے یومیہ آمدن کی حد 3 ڈالر فی کس مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئے پیمانے کے مطابق پاکستان کی 16.5 فیصد آبادی انتہائی غربت کا شکار ہے، پاکستان میں 3 کروڑ 98 لاکھ سے زیادہ افراد انتہائی غربت کی کیٹیگری میں شامل ہیں۔
پاکستان دنیا کے نچلے، درمیانے آمدنی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، کم آمدن والے ملکوں کیلئے غربت جانچنے کا معیار 2.15 ڈالر سے بڑھا کر 3 ڈالر کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اپر مڈل انکم ممالک میں غربت جانچنے کیلئے آمدن 6.85 سے بڑھا کر 8.30 ڈالر یومیہ مقرر ہے، اس پیمانے کے مطابق پاکستان کی 88.4 فیصد آبادی اس حد سے نیچے ہے۔ Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق پاکستان غربت کا شکار پاکستان میں
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔