اگلی بار پاک بھارت جنگ ہوئی تو ٹرمپ کے پاس مداخلت کرکے رکوانے کا وقت نہیں ہو گا، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 5th, June 2025 GMT
بلاول بھٹو زرداری : فوٹو ایکس
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اگلی بار پاکستان اور بھارت میں جنگ ہوئی تو ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس مداخلت کرکے رکوانے کا وقت نہیں ہو گا۔
اعلی سطح کے پاکستانی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کرتا ہے، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دہشتگردی کے بعد ہم بھارت سے جنگ کریں، ہم امن چاہتے ہیں جو پاکستان اور بھارت دونوں کے حق میں ہے، کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر ہم مستحکم امن حاصل نہیں کر سکتے۔
بلاول نے کہا کہ چینی اور روٹی کھانا چھوڑیں، جم میں جا کر ایکسرسائز کریں، وزن کم ہو جائے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کے چارٹر کے برخلاف پاکستان کے 24 کروڑ افراد کے پانی کے حق پر حملہ کر رہا ہے، بھارتی حکومت آنے والی نسلوں کو پانی پر جنگوں پر مجبور کر رہی ہے، بھارت کا موقف تھا کہ مقبوضہ کشمیر ان کا اندرونی معاملہ ہے، اب امریکی صدر نے کہا کہ کشمیر عالمی تنازع ہے، پانچ دن کی جنگ کا نتیجہ یہ ہے کہ اب بھارتی بھی کہتے ہیں کہ کشمیر دو طرفہ تنازع ہے، بھارت کو پاکستان سے ہزاروں مسائل ہوں گے لیکن مذاکرات سے انکار پر مسائل رہیں گے۔
پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کا بالکل کوئی کردار نہیں، پاکستان نے بھارت کو غیر جانبدارانہ عالمی انکوائری کی پیشکش کی، پاکستان کو بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کا سامنا ہے، اس سال پاکستان میں جتنے دہشتگردی کے حملے ہو رہے ہیں اگر ہوتے رہے تو یہ سب سے زیادہ خونی سال ہوگا، بھارت پاکستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی وغیرہ کو سپورٹ کررہا ہے، پاکستان نے بلوچستان سے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن کو پکڑا جو زیر حراست ہے، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دہشتگردی کے بعد ہم بھارت سے جنگ کریں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میرے یہاں آنے سے پہلے بلوچستان میں دہشتگردوں نے اسکول بس پر حملہ کیا، دہشتگرد گروپوں نے پاکستان میں ہمارے غیر ملکی مہمانوں کو ٹارگٹ کیا، امید ہے صدر ٹرمپ بھارت کو دوبارہ جارحیت سے باز رکھیں گے، ہم امن چاہتے ہیں جو پاکستان اور بھارت دونوں کے حق میں ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت کے ساتھ امن چاہتے ہیں مگر شرائط پر نہیں، امن کا حصول مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل کیے بغیر ہم مستحکم امن حاصل نہیں کرسکتے، ہمیں کشمیر پر بات کرنا ہوگی ہمیں پانی پر بات کرنا ہوگی، بھارت کا پاکستان کا پانی روکنا جنگی اقدام ہوگا، چھوٹا بڑا کوئی بھی ملک ہو پانی اور اپنی بقا کے لیے لڑے گا، بھارت کو اگر پاکستان کا پانی روکنے دیا گیا تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی اپر رپریرن ملک تنازع پر دوسرے ملک کا پانی روکے گا۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو
امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ حالیہ بھارتی جارحیت کی وجہ سے مستقبل کے تنازعات میں جوہری خطرات میں اضافہ ہوا ہے، بھارتی اقدامات کی وجہ سے حالات کی غیر یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور بھارت کے مابین جامع بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مستقبل میں کسی اقدام کا جواب دینے سے متعلق پاکستان کے پاس بہت کم وقت ہوگا، بھارت کے جوہری صلاحیت کے حامل میزائل کے استعمال نے صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی سفارتی.
امریکی ٹی وی نے سوال کیا کہ جنگ بندی کے باوجود مودی کی جانب سے بھارتی اقدام کو "نیو نارمل " کہا گیا، جس کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم اس نیو نارمل کو ابنارمل کہتے ہیں جسے بھارتی قیادت خطے پر مسلط کرنا چاہ رہی ہے، مودی کے نظریے کے مطابق جنگ چھیڑنے کیلئے ثبوت کی نہیں، محض ایک الزام کافی ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جامع مذاکراتی عمل میں شامل ہوں، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور تسلی بخش جواب دیا۔
بلاول بھٹو نے جنگ بندی کے حوالے سے امریکی قیادت کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ددنوں ملکوں کے درمیان امن کے لیے سعودی عرب اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اعلیٰ سطح پاکستانی وفد کا لندن اور برسلز سمیت یورپی دارالحکومتوں کا دورہ بھی متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پاکستان اور بھارت بھٹو نے کہا کہ بلاول بھٹو نے بھارت کو یہ ہے کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔