اسلام آباد (آئی این پی)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)نے بجٹ کے حتمی مشاورتی مراحل میں پروگرام کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس میں زرعی آمدنی پر ٹیکس کی صوبائی بجٹ میں شمولیت بھی شامل ہے، تاکہ اس کی موثر وصولی ستمبر 2025 سے پہلے شروع کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت کے اضافی بجلی کی گنجائش کو استعمال کرنے کے لیے بجلی کے استعمال میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے منصوبے سے بھی اتفاق نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف صوبوں سے اخراجات پر کنٹرول کے لیے مضبوط وعدہ چاہتا ہے، حالاں کہ صوبوں نے ترقیاتی منصوبوں میں توسیع کی تجاویز دی ہیں، جنہیں نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی)نے منظور بھی کر لیا ہے، چاروں صوبے اگلے سال کے لیے آئی ایم ایف کے اندازوں سے تقریبا 850 ارب روپے زیادہ ترقیاتی اخراجات مختص کر چکے ہیں۔دوسری جانب مرکز کی محصولات میں کمی کی وجہ سے صوبے اس سال بجٹ سرپلس فراہم کرنے کے وعدے کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے، اور آئندہ مالی سال کے لیے اپنے حصص کو زیادہ سے زیادہ مختص کر رہے ہیں، تاکہ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے آئندہ اجلاس سے پہلے اپنے مالی حقوق سے محروم نہ ہو جائیں۔آئی ایم ایف زرعی آمدنی پر مکمل عملدرآمد اور متعلقہ خدمات کا بھی خواہاں ہے، جس پر ابھی تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اتفاق نہیں ہو سکا، کیوں کہ مرکز کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ زراعت اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ذرائع کے مطابق حکام نے 7 ہزار میگاواٹ اضافی بجلی کو کم قیمت پر بیچنے کی اجازت حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، جس میں کسی سبسڈی کی گنجائش نہیں تھی، لیکن آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ اس قسم کے معاشی بگاڑ، بشمول ٹیکسیشن، مراعات، اور الائونسز نے ملک کو مشکلات میں ڈالا ہے۔حکومت کا خیال ہے کہ اضافی بجلی کو اگر نئے صارفین اور صنعتی شعبوں کو بیچنے کی اجازت دی جائے تو یہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے سکتی ہے، چاہے منافع کے بغیر ہی کیوں نہ ہو، مگر آئی ایم ایف اسے ان صارفین کے ساتھ ناانصافی سمجھتا ہے جو پہلے ہی بھاری نرخ ادا کر رہے ہیں۔یہ بھی غیر منصفانہ تصور کیا گیا کہ پرانے صنعتی یونٹس جو زیادہ پیداواری لاگت پر چل رہے ہیں، وہ ان نئی صنعتوں سے مقابلہ کریں، جو سستی بجلی پر چل رہی ہوں، حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں استحکام کے لیے لاگت میں کمی کی کوششیں جاری رکھے اور تمام صارفین کے لیے مساوی مواقع فراہم کرے۔اس سلسلے میں یہ واضح نہیں ہے کہ حکومت کا کرپٹو مائننگ کے لیے 2 ہزار میگاواٹ بجلی 3 سے 4 سینٹ فی یونٹ (یعنی 8-9 روپے) پر دینے کا منصوبہ کامیاب ہوسکے گا یا نہیں، کیوں کہ بنیادی نرخ 24 سے 25 روپے فی یونٹ ہیں۔آئی ایم ایف نے صوبوں کی جانب سے دی گئی بجلی اور گیس پر سبسڈی کی بھی مخالفت کی ہے، جیسا کہ رواں سال پنجاب نے یہ سبسڈی دی تھی، اور آئندہ سال بھی دہرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ بجلی، گیس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کی جائے، تاکہ مالی اور ٹیکس نقصان کم کیا جا سکے، اس حوالے سے، آئندہ سال صوبوں کو بھی اپنے محکموں میں کمی کرنا ہو گی تاکہ وہ وفاق کی اس سال کی جانے والی مشق کی حمایت کر سکیں۔اگلے سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس ہدف تقریبا 14 ہزار 200 ارب روپے پر قائم رہے گا، جیسا کہ چند ماہ قبل توسیعی فنڈ پروگرام کے پہلے جائزے میں طے پایا تھا، دیگر زیادہ تر اندازے بھی وہی رہیں گے۔تنخواہ دار طبقے کے لیے معمولی ٹیکس رعایت دی جائے گی، لیکن خوردہ شعبے سے وصولیوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی، آئندہ سال کے بجٹ کا بنیادی موضوع ڈیجیٹائزیشن ہوگا، اور نقد و ڈیجیٹل لین دین کے لیے مختلف ٹیکس اور شرحیں لاگو کی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کے لیے سال کے

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم