پشاور سمیت پختونخوا کے کئی علاقوں میں افغان مہاجرین آج عید منا رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا میں کئی مقامات پر افغان مہاجرین آج عیدالاضحیٰ منا رہے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سعودی عرب، امارات سمیت کئی خلیجی ممالک میں آج عید الاضحیٰ منائی جا رہی ہے جب کہ پاکستان میں بوہری برادری بھی آج عید قرباں منا رہی ہے۔
کراچی میں بوہرہ برادری نے نماز عید ادا کی اور اس کے بعد جانوروں کی قربانی کی۔
دوسری جانب پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے کئی مقامات پر افغان مہاجرین بھی آج عید الاضحیٰ منا رہے ہیں، جہاں انہوں نے نماز عید ادا کی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق حیات آباد، بورڈ بازار، کارخانو مارکیٹ، شمشتو کیمپ، ناصر باغ میں نماز عید الاضحیٰ ادا کی گئی۔
دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ صوبے میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر جامع صفائی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے تحت عیدگاہوں، عوامی مقامات اور قربانی کے لیے مختص کردہ مقامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نماز سے قبل تمام عیدگاہوں کی مکمل صفائی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ ماحول دوست بائیوڈیگریڈیبل شاپنگ بیگز شہریوں میں تقسیم کیے جا رہے ہیں، تاکہ وہ قربانی کے جانوروں کے فضلے کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔