خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کی حجاج اور امت مسلمہ کے لیے دعا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اُنہیں حرمین شریفین کی خدمت کا شرف حاصل ہے۔
شاہ سلمان نے دعا کی کہ اللہ تعالی حجاجِ کرام کے حج، نسک اور عبادات کو قبول فرمائے اور عیدالاضحیٰ کے اس پُرمسرت موقع پر امتِ مسلمہ اور پوری دنیا کے لیے خیر، سلامتی اور محبت لے کر آئے۔ آخر میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی، اور خیریت کی دعا دی۔
نحمد المولى سبحانه وتعالى أن أنعم علينا وشرّفنا بخدمة الحرمين الشريفين، داعين الله سبحانه أن يتقبل من حجاج بيته حجهم ونسكهم وطاعاتهم، وأن يحمل عيد الأضحى المبارك الخير والسلام والمحبة لأمتنا والعالم أجمع.
وكل عام وأنتم بخير.
— سلمان بن عبدالعزيز (@KingSalman) June 6, 2025
2025: حج کے لیے دنیا بھر سے 1,673,230 عازمینِ حج مکہ مکرمہ پہنچےرواں سال 2025 کے حج کے لیے دنیا بھر سے 1,673,230 عازمینِ حج مکہ مکرمہ پہنچے، جنہوں نے میدانِ عرفات میں وقوف کیا اور مناسکِ حج انتہائی سہولت اور اطمینان کے ساتھ ادا کیے۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد کو ایرانی صدر کا فون، عید کی مبارکباد اور حج خدمات پر اظہار تشکر
سعودی وزارتِ حج و عمرہ کے مطابق، اس سال 1,506,576 حجاج بیرونِ ملک سے آئے، جبکہ مملکت کے اندر سے 166,654 حجاج نے فریضۂ حج ادا کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، مجموعی حجاج میں 877,841 مرد اور 795,389 خواتین شامل تھیں۔
سعودی حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے حج کے تمام مراحل کے دوران بہترین انتظامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں حجاج کرام نے اپنے مناسک انتہائی سہولت اور سکون کے ساتھ ادا کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔