نیویارک:پاکستانی سفارتی مشن کے سربراہ، سابق وفاقی وزیر خارجہ اور چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ اگر اب پاک بھارت جنگ ہوئی تو پھر ٹرمپ کے پاس مداخلت کر کے اسے رکوانے کا وقت نہیں ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے اعلی سطح کے ملکی پارلیمانی سفارتی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا جس میں بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی شرکت کی۔

استقبالیے میں پورے امریکا سے پاکستانی کمیونٹی کے اہم اور بااثر اراکین شریک ہوئے۔ شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکا میں مقیم پاکستانیوں کو اپنی سفارتی مہم سے متعلق اعتماد میں لیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا میں مقیم پاکستانی امن اور خوشحالی کے مشترکہ مقصد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران ایک ذمہ دار فریق کے طور پر کردار ادا کیا ہے، ہمارا مشن واضح ہے، ہم مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے امن کا حصول چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قیام امن کی کوشش میں ہمارا ساتھ دے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا انحصار جامع مکالمے پر منحصر ہے۔ ایک پرامن جنوبی ایشیا، جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت معمول پر آئے، تمام متعلقہ ممالک کے لیے فوائد کا باعث بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

قبل ازیں پاکستان کے اعلیٰ سطح کے پارلیمانی وفد اور مشن نے معروف امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے منعقد کردہ مکالمے میں شرکت کی اور پاک بھارت حالیہ تنازعے اور پاک امریکہ تعاون کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔

وفد کے سربراہ بلاول بھٹو نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا اور صدر ٹرمپ کے کردار کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے جارحیت ترک نہیں کی جبکہ پاکستان مسلسل امن کیلیے اقدامات کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان اُس کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے اور ہم ایسے ہی کریں گے۔ بلاول نے واضح کیا کہ اب اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو ٹرمپ کے پاس مداخلت کر کے رکوانے کا وقت نہیں ہوگا۔

بلاول بھٹو نے شرکا کو بھارت کی بلوچستان میں جاری اسپانسرڈ دہشت گردی، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی سپورٹ کے حوالے سے آگاہ کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر دہشت گردی کے بعد ہم بھارت سے جنگ کریں کیونکہ مودی سرکار نے یہی طریقہ اپنایا ہوا ہے، پاکستان امن چاہتا ہے اور یہ ہی دونوں ممالک کے حق میں ہے۔

بلاول بھٹو زرداری وفد کے ہمراہ امریکی سینٹ کی سیلیکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر ٹام کاٹن، اراکین رکن کانگریس لیو کورا سے بھی ملاقات کی۔

پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد نے امریکی کانگریس کی امور خارجہ کی کمیٹی کے سربراہ برائن ماسٹ اور رینکنگ ممبر گیگوری میکس سے اہم ملاقات جس کی جس میں امور خارجہ کی کمیٹی کے دیگر اراکین بھی شریک تھے۔

اس کے علاوہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وفد نے امریکی محکمہ داخلہ کے حکام سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری پاک بھارت جنگ انہوں نے ٹرمپ کے نے کہا

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل