قرض ادائیگی میں ہوشربا اضافہ، 6 سال میں سود 2 ہزار سے بڑھ کر 8600 ہزار ارب ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
قرض ادائیگی میں ہوشربا اضافہ، 6 سال میں سود 2 ہزار سے بڑھ کر 8600 ہزار ارب ہوگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 6 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے بل میں بھاری اضافہ ہوگیا ہے اور 6 سال میں سود کی ادائیگیاں 2 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 8 ہزار 600 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔ٹاپ لائن ریسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بڑھتے قرضوں اور بلند شرح سود کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سود ادائیگیوں کا حصہ مجموعی قومی پیداوار میں دوگنا ہو کر تقریبا 8 فیصد تک جا پہنچا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کے بل میں بھاری اضافے کے باعث ترقیاتی منصوبوں، صحت اور تعلیم کے لیے دستیاب مالی وسائل بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت سیف سٹی ہیڈکوارٹرز میں اعلی سطح کے اجلاس،صفائی سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت سیف سٹی ہیڈکوارٹرز میں اعلی سطح کے اجلاس،صفائی سمیت دیگر انتظامات کا جائزہ عالمی برادری فلسطینیوں کیلئے خوراک، مالی و طبی امداد فراہم کرے، جنیوا اجلاس میں پاکستان کا مطالبہ سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی طبیعت اچانک ناساز، اسپتال منتقل چین کی پاکستان کو ففتھ جنریشن اسٹیلتھ طیارے اور ڈیفنس سسٹم دینے کی پیشکش پاکستان عالمی سطح پر ضابطوں اور اختراعات کے فریم ورک کی تشکیل کا بغور جائزہ لے رہا ہے، بلال بن ثاقب حکومت کا 2029 تک ملکی ترقی کی شرح 6 فیصد تک پہنچانے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔