بہتر حج انتظامات، گرمی سے متاثرہ عازمین کی تعداد میں 90 فیصد کمی ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 6th, June 2025 GMT
سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے حج کے دوران عازمین کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان براہِ راست دھوپ سے بچنے کے لیے سخت ہدایات جاری کی ہیں تاکہ عازمین حج کو ہیٹ اسٹروک سے بچایا جاسکے۔
وزارت صحت نے عازمین کو چھتریوں کے استعمال، زیادہ پانی پینے اور حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی ہے تاکہ گرمی کی شدت سے ہونے والی بیماریوں جیسے ہیٹ اسٹروک اور تھکن سے محفوظ رہا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: یوم ترویہ، عازمین کے لیے 9 لاکھ 80 ہزار کیوبک میٹر سے زائد پانی نکالا گیا
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ رہنما اصول حجاج کرام کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔
وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ حج سیزن کے مقابلے میں اس سال گرمی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں 90 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں یہ کمی سعودی وژن 2030 کے تحت چلنے والے ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور ‘پِلگرم ایکسپیرینس پروگرام’ کی کوششوں کا نتیجہ ہے جن کا مقصد حج کو زیادہ محفوظ اور آسان بنانا ہے۔
وزارت نے بتایا کہ اس نمایاں کمی کی وجہ مؤثر احتیاطی اقدامات، وسیع پیمانے پر آگاہی مہم اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری اور تعاون ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں عیدالاضحی مذہبی جوش و جذبے سے منائی جا رہی ہے، مناسک حج اختتامی مراحل میں
ان اقدامات میں وزارتِ صحت کی جانب سے 8 زبانوں میں ایک آگاہی کٹ کا اجرا بھی شامل ہے جو ہدایات، ویڈیوز، سوشل میڈیا پوسٹس اور پرنٹ مواد پر مشتمل ہے۔
اس کٹ کا مقصد عازمین کو گرمی سے بچاؤ کی ہدایات فراہم کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
hajj 2025 حج 2025 گرمی ہیٹ اسٹروک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہیٹ اسٹروک کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔