عید کے دن بھی غزہ پر قیامت، اسرائیلی بمباری میں مزید 42 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 7th, June 2025 GMT
فلسطین میں عیدالاضحیٰ کا پہلا دن بھی دکھ، خون اور تباہی کا پیغام لے کر آیا، جب اسرائیلی افواج نے غزہ پر فضائی حملے اور زمینی فائرنگ جاری رکھتے ہوئے کم از کم 42 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملے شمالی، وسطی اور جنوبی علاقوں میں جاری رہے، جن میں خواتین اور بچے بھی نشانہ بنے۔
شمالی غزہ کے علاقے جبالیا پر شدید حملے میں 11 افراد موقع پر شہید ہو گئے، جبکہ دیگر متاثرہ علاقوں سے بھی شہادتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب فلسطینی عید کی نماز کے لیے تیار ہو رہے تھے یا عید کے پہلے روز کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ عید کے دن کی فضا سوگ، ماتم اور ہنگامی امداد کی آوازوں سے گونجتی رہی۔
مقامی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ شہداء کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔