وکٹری پریڈ میں ہلاکتیں؛ کوہلی کی فرنچائز پر پابندی لگنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں رواں سیزن کی فاتح ٹیم رائل چیلنجرز بنگلور کی وکٹری پریڈ میں بھگڈر کے باعث ہونیوالی ہلاکتوں کے باعث فرنچائز پر پابندی لگنے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز رائل چیلنجرز بنگلور فتح کا جشن منانے ہزاروں مداح چِنّاسوامی اسٹیڈیم پہنچے تھے، جہاں بھگڈر کے باعث کم ازکم 11 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
18 سال بعد آئی پی ایل ٹائٹل جیتنے والی فرنچائز نے وکٹری پریڈ رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس میں ٹیم کے کپتان سمیت غیر ملکی کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف نے شرکت کی تاہم اس دوران پھگڈر مچنے سے ہلاکتیں ہوئیں۔
مزید پڑھیں: جیت کا جشن ماتم میں تبدیل؛ مارکیٹنگ کمپنی کے سربراہ سمیت 3 افراد گرفتار
تاہم واقعہ میں ہلاک افراد کی اموات پر پولیس نے ایف آئی آر فرنچائز پر درج کرلی ہے جبکہ وکٹری پریڈ منعقد کرنیوالی مارکیٹنگ کمپنی کے سربراہ نکھل سوسالے کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔
اس کے علاوہ ڈی این اے انٹرٹینمنٹ نیٹ ورکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے 3 اسٹاف ممبران اور منتظمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: وکٹری پریڈ میں بھگدڑ سے اموات؛ کوہلی کی فرنچائز پر ایف آئی درج
ہلاکتوں کے بعد عوامی غم و غصہ کم کرنے کیلئے فرنچائز نے متاثرہ خاندانوں کیلئے 10 لاکھ روپے فی کس دینے کا بھی اعلان بھی کیا ہے۔
مزید پڑھیں: وکٹری پریڈ؛ بھارتی بورڈ نے فرنچائز کو مشکل میں تنہا چھوڑ دیا
دوسری جانب مطالبہ سامنے آیا ہے کہ فرنچائز پر کم از کم 2 سال کی پابندی عائد لگائی جائے، وکٹری پریڈ میں بھگڈر مچنے سے ہونیوالی ہلاکتوں پر انتظامیہ اور کرناٹک حکومت کی اجتماعی ناکامی قرار دیا جارہا ہے، واقعہ کی تحقیقات ہوتی ہیں اور فرنچائز کیخلاف شواہد ملتے ہیں تو رائل چیلنجرز بنگلور پر بھی پابندی لگنے کا سخت فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: وکٹری پریڈ! پولیس نے منع کیا تو فرنچائز نے کیا دلیل دی؟
اس سے قبل چنائی سپر کنگز اور راجھستان رائلر پر 2016، 2017 کے ایڈیشن میں پابندی لگائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وکٹری پریڈ میں فرنچائز پر مزید پڑھیں
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔