پاور ڈویژن نے دو بجلی میٹرز پر پابندی کی خبروں کی تردید کر دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
اویس کیانی: پاور ڈویژن نے دو بجلی میٹروں پر پابندی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ایسی خبریں عوام میں بے چینی پھیلانے کی مذموم کوشش ہیں۔ ترجمان کے مطابق قانون اور شرائط کے مطابق رہائشی جگہ پر دوسرا بجلی میٹر حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ اگر علیحدہ پورشن، الگ سرکٹ، دوسرا داخلی راستہ یا علیحدہ کچن موجود ہو تو دوسرا میٹر لگوانے کی اجازت ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی نگرانی کیلئے کنٹرول روم فعال
پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کے ناجائز استعمال اور سبسڈی کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے پہلے ہی قوانین موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاور ڈویژن
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔