آفریدی نے بھارت سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹ کو 'جھوٹا' قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, June 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے خود منسوب بھارت سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ کو جھوٹ قرار دیدیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی سے متعلق ایک پوسٹ زیر گردش کررہی تھی کہ بھارت کی کرکٹ ٹیکنالوجی کو دیکھا جائے تو 10 سال پیچھے ہے، حتیٰ کہ انہیں اپنا دشمن کہنا بھی توہین ہے۔
مزید پڑھیں: آفریدی کی ہندوستانی کمیونٹی کے پروگرام میں شرکت، بھارتی چراغ پَا
شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پر خود سے منسوب اس پوسٹ کی تصویر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے لکھا یہ فیک ہے۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ شاہد آفریدی کا بھی بھارت پر جوابی وار
قبل ازیں پہلگام واقعہ کے بعد بھارتی جارحیت پر پاکستانی مسلح افواج کے جواب پر شاہد آفریدی نے بھارت کی انتہاپسند حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر سابق کرکٹر شیکھر دھون اور دانش کنیریا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
مزید پڑھیں: شاہد آفریدی کے پہلگام واقعے سے متعلق بیان پر دانش کنیریا تلملا اٹھے
تاہم شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا تھا کہ وہاں (پہلگام) پر پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو پاکستان پر نام لگادیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج ہونے کے باوجود یہ واقعہ ہوگیا اس کا مطلب تم نالائق اور نکمے ہو جو لوگوں کو سکیورٹی نہیں دے سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی سوشل میڈیا
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔