وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب پر جوابی نشتر چلاتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت اور اس کے بچے جموروں کا ایک ہی رونا ہے، نہ ان کے پاس بتانے کوکچھ ہے، نہ دکھانے کو، عید والے دن بھی اپنی نالائقی چھپانے کے لیے فضول تنقید سے باز نہیں آئے، آپ صرف کراچی کو بھی صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، حسد کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا، جو میڈیا کو نظرآرہا ہے، میڈیا وہ ہی دکھارہا ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مرتضیٰ وہاب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عید کے دن بھی ناکامیاں چھپانے کے لیے فضول تنقید سے باز نہیں آئے، وزیراعلیٰ پنجاب کا گراؤنڈ پر جانا ضروری نہیں کیونکہ ایک لاکھ 40 ہزار لوگ، انتظامیہ اور وزرا گراؤنڈ پر موجود ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اس وقت مقصد آلائشیں اٹھانا اور صوبے کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ہے، اس وقت پنجاب میں 1 لاکھ 40 ہزار ورکرز فیلڈ میں کام کررہے ہیں، 2 دن سے وزیراعلیٰ سندھ اور ان کے وزرا کی فوج منظر سے غائب ہے، آپ صرف کراچی کو بھی صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، 16 سال سے سندھ حکومت اور اس کے بچے جموروں کا ایک ہی رونا ہے۔

وزیراطلاعات پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ بات میڈیا مینجمنٹ کی نہیں، جو میڈیا کو دِکھ رہا وہی میڈیا دکھا رہا ہے، سندھ حکومت کے پاس نہ بتانے کو کچھ ہے نہ دکھانے کو کچھ، حسد کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا،ایک محاورہ ہے محنت کر حسد نا کر۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے پاس

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا