راولپنڈی میں لرزہ خیز واردات؛ باپ کو 2 بیٹوں سمیت موت کے گھاٹ اتاردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
دارالحکومت کے جڑواں شہر میں قتل کی لرزہ خیز واردات ہوئی، جس میں باپ کو دو بیٹوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے جاتلی میں دل ہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں درکالی سیداں کے مقام پر مسلح افراد نے گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے باپ اور اس کے 2 بیٹوں کو قتل کردیا۔
جاں بحق ہونے والوں میں والد مشتاق شاہ امجد اور 2 بیٹے عمران شاہ اور رضوان شاہ شامل ہیں۔ واقعہ مبینہ طور پر سابقہ دشمنی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے۔ بعد ازاں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سی پی او سید خالد ہمدانی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 2 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر سابقہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ ملوث افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔