راولپنڈی: گوشت دینے کے بہانے گھر میں داخل ہوکر خاتون سے جنسی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
راولپنڈی میں گوشت دینے کے بہانے گھر میں داخل والے ملزم نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
راولپنڈی کے علاقے مورگاہ میں خاتون سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔ متاثرہ خاتون کے مطابق ملزم طارق عید کا گوشت دینے کے بہانے گھر داخل ہوا اور زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر میں مؤقف اپنایا کہ ملزم چوہدری طارق سے دو کروڑ روپے مالیت کا گھر خریدا۔ ایک کروڑ 70 لاکھ روپے ادا کرکے گھر کا قبضہ لیا۔ باقی 30 لاکھ بھی اد کر دیئے مگر ملزم رجسٹری کرانے میں ٹال مٹول کرتا رہا۔
ملزم نے گھر پر قبضے کی کوشش کی جس پر عدالت سے حکم امتناع لیا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ عید کے روز ملزم گوشت دینے کے بہانے گھر میں داخل ہوا اور اکیلے دیکھ کر زیادتی کی۔ ون فائیو پر کال کی تو پولیس موقع پر آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔