گورنر کیلیفورنیا نے صدر ٹرمپ کا فیصلہ غیر قانونی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
مظاہروں کے بارے میں ٹرمپ کی بیان بازی کے باوجود، صدر ٹرمپ نے بغاوت ایکٹ، 1807 کا قانون صدر کو سول ڈس آرڈر جیسے واقعات کو دبانے کے لیے امریکی فوج کو تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ اس کا اطلاق کریں گے؟ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر کہ بغاوت ہوتی ہے یا نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ لاس اینجلس میں امیگریشن قوانین کیخلاف تارکین وطن کے تیسرے روز بھی مظاہرے جاری ہیں، احتجاج کو کنٹرول کرنے کیلیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاس ایجنلس میں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے، جسے کیلفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنرگیون نیوسم نے غیرقانونی فیصلہ قرار دیا ہے۔ عالمی خبررساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق مجموعی طور پر 39 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا ہے، نیشنل گارڈز سرکاری عمارتوں پر مامور ہے جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان لاس اینجلس میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
لاس ایجنلس کی پولیس نے مظاہروں کو غیرقانونی قار دیتے ہوئے کہا کہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور بوتلوں سمیت دیگر نقصان دہ اشیا سے حملے کیے۔ لاس اینجلس کے مرکزی علاقے میں کچھ جگہوں پر سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں مظاہرین کو تمھیں شرم آنی چاہیے، کے نعرے لگاتے سنا گیا، اس دوران چند مظاہرین نے شہر کے مرکزی علاقے کو ملانے والی شاہراہ 101 فری وی کو بلاک کر دیا۔
مظاہروں میں شریک بیشتر مظاہرین کو میکسیکو کے جھنڈے اٹھائے دیکھا گیا جو ٹرمپ انتظامیہ کے تارکین وطن کیخلاف قوانین کی مخالفت کر رہے تھے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے مقامی ٹی وی ’ایم ایس این بی سی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے صدر ٹرمپ سے لاس ایجنلس میں 2 ہزار نیشنل گارڈز کی تعیناتی کے فیصلے کو واپس لینے کی درخواست کی ہے ساتھ ہی انھوں نے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کو غیرقانونی بھی قرار دیا۔
گیون نیوسم نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ صدر ٹرمپ تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں، بڑے پیمانے پر افراتفری پھیلانے، شہروں میں مسلح افواج کی تعیناتی اور مخالفین کو حراست میں لے رہے ہیں، یہ اقدامات کسی آمر کے ہو سکتے ہیں صدر کے نہیں۔ دوسری جانب لاس اینجلس کے پولیس چیف جیم میکڈونلڈ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ مظاہرین اب پولیس کے قابو سے باہر ہورہے ہیں۔ پولیس چیف نے کہا ہے کہ ہم درست سمت میں جا رہے ہیں، ہمیں دوبارہ سے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر کہا کہ پولیس چیف جیم میکڈونلڈ کو یہ کرنا ہوگا، ان ٹھگوں کو یہاں سے بھاگنے نہیں دینا چاہیے، امریکا کو دوبارہ سے عظیم بنانا ہوگا۔ ترجمان وائٹ ہاوس نے بھی کیفلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کے الزامات کو صدر ٹرمپ کی ذات پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاس ایجنلس میں پھیلی افراتفری، پر تشدد واقعات اور لاقانونیت سب نے دیکھ لی ہے۔ نیشنل گارڈز سرکاری عمارتوں کے گرد مظاہرے کرنے والے مظاہرین کو پیچھے ہٹانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
یو ایس ناردرن کمانڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کیلیفورنیا کے300 نیشنل گارڈز کو لاس اینجلس کے 3 مختلف حصوں میں تعنیات کیا گیا ہے، ان گارڈز کو سرکاری اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر لاس اینجلس میں مظاہرے کرنے والے مظاہرین کو پرتشدد، تشدد کو بڑھاوا دینے والے مظاہرین کہا اور ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انھوں نے کابینہ کے افسران کو مظاہرین کیخلاف تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے تاکہ شہر میں جاری ان فسادات کو روکا جا سکے۔
نیوجرسی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مظاہرین کو دھمکی دی کی اگرمظاہرین پولیس یا نیشنل گارڈز پر تھوکیں گے تو بھی ان پر جوابی حملہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں محسوس ہوا کہ ملک اور شہریوں کی کسی بھی قسم کا خطرہ ہے تو پھر قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب ایف بی آئی نے پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے والے مظاہرین کی معلومات دینے پر 50 ہزار ڈالر انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔
مظاہروں کے بارے میں ٹرمپ کی بیان بازی کے باوجود، صدر ٹرمپ نے بغاوت ایکٹ، 1807 کا قانون صدر کو سول ڈس آرڈر جیسے واقعات کو دبانے کے لیے امریکی فوج کو تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس حوالے سے جب صحافیوں نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا وہ اس کا اطلاق کریں گے؟ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ اس بات پر منحصر کہ بغاوت ہوتی ہے یا نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: والے مظاہرین نیشنل گارڈز لاس اینجلس لاس ایجنلس مظاہرین کو رہے ہیں کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
اسلام آباد: ملک میں غیر قانونی سگریٹ برآمد ہونے کے ایک بڑے کیس میں کسٹمز انفورسمنٹ اور موٹروے پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 11 ٹرکوں سے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ قبضے میں لے لیے۔ حکام کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر چار ٹرکوں کے ذریعے غیر قانونی سگریٹ پنجاب منتقل کیے جانے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ بعد ازاں نگرانی کا دائرہ وسیع کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید گاڑیوں کی تلاشی کے دوران مجموعی طور پر 11 ٹرکوں سے بڑی مقدار میں سگریٹ برآمد ہوئے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق یہ کھیپ خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے پنجاب کے مختلف شہروں، جن میں لاہور، ملتان اور سرگودھا شامل ہیں، روانہ کی جا رہی تھی۔ حکام کے مطابق ترسیل کے لیے نجی ٹرانسپورٹ استعمال کی گئی۔
برآمد ہونے والے سگریٹ مختلف برانڈز پر مشتمل ہیں۔ متعلقہ ادارے ان برانڈز کے ٹیکس ریکارڈ، قانونی حیثیت، سپلائی چین اور ترسیلی نیٹ ورک کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان مصنوعات پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد غیر قانونی تجارت، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔ اس سلسلے میں ضبط شدہ سامان کی جانچ، متعلقہ دستاویزات کی تصدیق اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے غیر قانونی سگریٹ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ اس مرحلے پر کسی فرد یا ادارے کے خلاف باضابطہ طور پر جرم ثابت نہیں ہوا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔