افسوس ہے وزیراعلیٰ پنجاب کو گٹر کھلوانے کیلئے خود آنا پڑتا ہے، سعدیہ جاوید
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بلدیاتی نظام نہ ہونا عوام سے زیادتی ہے۔
کراچی سے جاری بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ افسوس ہے وزیراعلیٰ پنجاب کو کبھی گٹر کھلوانے اور کبھی صفائی کروانے خود آنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں لوکل گورنمنٹ مشینری کام نہ کرتی ہو وہاں وزیراعلی کو اشتہارات دینے پڑتے ہیں۔
سعدیہ جاوید نے مزید کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے بعد سندھ کے عوامی نمائندوں نے بھرپور محنت کی، عیدالاضحیٰ پر سندھ کے بلدیاتی نمائندوں نے بھرپور کام کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، لاڑکانہ میں صفائی بے مثال ہے، سندھ میں میئر اور چیئرمینز کا کام مثالی ہے، اس عید کے اصل ہیرو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ورکر ہیں۔
سندھ حکومت کی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بلدیاتی نظام نہ ہونا عوام سے زیادتی ہے، افسوس ہے کہ وزیراعلی پنجاب کو کبھی گٹر کھلوانے اور کبھی صفائی کروانے خود آنا پڑتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سعدیہ جاوید کہا کہ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔