حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کرینگے ، ملی یکجہتی کونسل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کرینگے ، ملی یکجہتی کونسل WhatsAppFacebookTwitter 0 23 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)ملی یکجہتی کونسل نے کہا ہے اگر حکومت پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں ایران اور فلسطین پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے جواب کو جائز قرار دیا گیا اور واضح کیا کہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت کی جائے گی۔
اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایٹمی پروگرام کو ایران کا حق سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر اور فلسطین پر مضبوط حکمت عملی اپنائے۔ملی یکجہتی کونسل نے ملک سے سود کا خاتمہ اوراسلامی معاشی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی 18 سال سے کم عمر کی شادی پر پابندی اور سزاوں کے قانون کو مسترد کرتے ہوئے غیر شرعی قانون واپس لینے بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کرنے کی دھمکی بھی دی۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ملی یکجہتی کونسل اپنی علما و وکلا کمیٹی کے ذریعہ لائحہ عمل سامنے لائے گی۔ ایکشن کمیٹی مطالبات پورے نہ ہونے پر اے پی سی بلاکر ملک گیر احتجاج کا لائحہ عمل دے گی۔ملی یکجہتی کونسل نے حکومت کو مشورہ دیا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقہ سے نکالا جائے، ورنہ نظام کو خطرہ لاحق ہوگا۔ سیاسی نظام لپیٹا گیا تو تمام سیاسی قیادت منہ دیکھتے رہ جائے گی۔
اعلامیہ میں کے پی اور بلوچستان میں امن ومان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بنانے اور مشترکہ مفادات کونسل کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔ ملی یکجہتی کونسل نے بارش متاثرین کی مدد کا بھی مطالبہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے بیٹوں کی ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرینل سے ملاقات، رہائی کیلئے امریکا میں مہم شروع کر دی عمران خان کے بیٹوں کی ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرینل سے ملاقات، رہائی کیلئے امریکا میں مہم شروع کر دی پاکستان اور افغانستان کے درمیان ترجیحی بنیادوں پر تجارتی معاہدہ طے پاگیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاری، پیٹرولیم لیوی مزید 10روپے تک بڑھانے پر غور روانڈا کی ہائی کمشنر کی چیئرمین سی ڈی اے سے ملاقات،دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بڑھانے پر تبادلہ خیال کوہستان کرپشن اسکینڈل، ملزمان کی جانب سے پلی بارگین کیلئے درخواستیں دائر اسحاق ڈار جمعہ کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اہم ملاقات کریں گےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو سخت مزاحمت ملی یکجہتی کونسل نے اعلامیہ میں مطالبہ کیا
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ