ایک سال میں کتنے لاکھ پاکستانی ملازمت کیلیے بیرون ملک منتقل ہوئے؟ رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, June 2025 GMT
اقتصادی سروے رپورٹ سامنے آگئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران لاکھوں پاکستان روزگار کیلیے بیرون ملک چلے گئے ہیں۔
اقتصادی سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک کام کیلئے جانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ پنجاب سے ہے، جہاں سے ایک سال کے دوران 4 لاکھ 4 ہزار 345 افراد بیرون ملک گئے۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخواہ سے بیرون ملک کام کیلئے جانے والے افراد کی تعداد 1 لاکھ 87 ہزار ہے، سندھ سے 60 ہزار 424 افراد بیرون ملک کام کیلئے گئے ہیں۔
اسی طرح قبائلی علاقوں سے 29 ہزار 937 افراد بیرون ملک کام کیلئے گئے جبکہ آزاد کشمیر سے بیرون ملک جانے والی لیبر کی تعداد 29 ہزار 591 ہے، ایک سال میں وفاقی دارالحکومت سے 8 ہزار 621 ورکرز بیرون ملک گئے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے بیرون ملک جانے والے ورکرز کی تعداد 5 ہزار 668 ہے، شمالی علاقہ جات سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد 1692 ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیرون ملک کام کیلئے سے بیرون ملک کی تعداد
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔