یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ "ایلبیٹ” فیکٹری کو گزشتہ سال قابض اسرائیل کی اراضی اتھارٹی ہے بھاری جرمانوں سے استثنا دے کر اسے گولہ بارود کی تیاری جاری رکھنے کی اجازت دی، تاکہ اسرائیلی فوج کو مسلسل اسلحہ مہیا کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک برطانوی کمپنی نے فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کش جنگ میں قابض اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے اسے بڑی مقدار میں اسلحہ فراہم کیا ہے۔ تازہ دستاویزات کے مطابق برطانوی انجینئرنگ کمپنی پیرموئڈ انڈسٹریز نے اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک کم از کم 16 بھاری بھرکم شپمنٹس میں 100 ٹن سے زائد وزنی اسلحہ اور گولہ بارود کے کنٹینر اسرائیلی اسلحہ ساز ادارے "ایلبیٹ سسٹمز کو روانہ کیے۔ یہ خفیہ انکشافات برطانوی خبروں کی ویب سائٹس ڈیکلاسفائیڈ اور دی ڈچ پر شائع ہوئے، جنہوں نے اس صنعت کے اس کالے دھندے پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ڈرہم میں قائم یہ برطانوی کمپنی ایک ہزار سے زائد گولہ بارود کے کنٹینرز اسرائیل روانہ کر چکی ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ برطانوی صنعتی ادارے، قابض اسرائیل کی خونریز فوجی طاقت کا سہارا بن چکے ہیں اور برطانیہ فلسطینوں کی نسل کشی مہم میں براہ راست ملوث ہے۔ پیرموئڈ کمپنی کے ویب سائٹ پر درج معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ادارہ کئی اقسام کے اسلحہ بردار کنٹینرز تیار کرتا ہے، جن میں شوٹ گن کارتوس، توپوں کے گولے، مارٹر شیلز اور 155 ملی میٹر کے مہلک گولے شامل ہیں۔ یہ وہی ہتھیار ہیں جو اس وقت غزہ پر قیامت ڈھانے کے لیے قابض اسرائیلی فوج استعمال کر رہی ہے۔

دستاویزات کے مطابق، اس برطانوی اسلحہ کی بڑی تعداد "ایلبیٹ سسٹمز” کے تل ابیب کے نزدیک واقع رامات ہشارون نامی فیکٹری بھیجی گئی، جہاں 122 اور 155 ملی میٹر کے مارٹر شیلز تیار ہوتے ہیں۔ یہی ادارہ اسرائیلی زمینی فوج اور ڈرون طیاروں کی 85 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے، اور اس کے کئی کارخانے برطانیہ میں بھی کام کر رہے ہیں۔ ان انکشافات نے فلسطینی عوام کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم میں برطانوی کمپنیوں کے کردار پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ تمام اسلحہ ایسے وقت میں بھیجا گیا جب غزہ بیس مہینوں سے جنگ، محاصرے، بھوک اور تباہی کی آگ میں جل رہا ہے۔ فورسز واچ کے کارکن اور سابق برطانوی فوجی جو گلنٹن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: “برطانوی حکومت کے بیانات میں اگرچہ تبدیلی نظر آتی ہے، لیکن حقائق یہ ہیں کہ برطانوی کمپنیاں اب بھی نسل کشی کی تیاری میں قابض اسرائیل کی مدد کر رہی ہیں۔ زبانی دعووں کی کوئی وقعت نہیں، جب تک اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی پر مکمل پابندی اور سخت پابندیاں نہ لگائی جائیں۔”

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ "ایلبیٹ” فیکٹری کو گزشتہ سال قابض اسرائیل کی اراضی اتھارٹی ہے بھاری جرمانوں سے استثنا دے کر اسے گولہ بارود کی تیاری جاری رکھنے کی اجازت دی، تاکہ اسرائیلی فوج کو مسلسل اسلحہ مہیا کیا جا سکے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، قابض ریاست کی سکیورٹی اس بات کو لازم سمجھتی ہے کہ "ایلبیٹ” کا پیداوری عمل رکے بغیر جاری رہے تاکہ موجودہ جنگ میں اسلحے کی قلت نہ ہو۔ مزید معلومات سے معلوم ہوا کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے اپریل سنہ 2025ء کے دوران "پیرموئڈ” کی جانب سے 920 کنٹینرز بھیجے گئے، جن میں سےصرف اپریل کے مہینے میں 360 کنٹینرز روانہ کیے گئے۔ اس دوران غزہ میں قابض اسرائیل کی طرف سے محاصرہ، بھوک، بمباری اور درندگی کا عروج تھا۔ علاوہ ازیں 160 کنٹینرز دسمبر سنہ 2023ء میں حيفا میں واقع "ایلبیٹ” کے جدید ٹیکنالوجی سینٹر کو بھی بھیجے گئے۔ یہ تمام ہتھیار اسدود بندرگاہ سے قابض اسرائیل کے بدنام زمانہ شپنگ ادارے زیم کے ذریعے منتقل کیے گئے، جن کا مجموعی وزن 135 ٹن سے زائد بتایا گیا ہے، جو 67 گاڑیوں کے وزن کے برابر ہے۔

برطانوی وزارت تجارت و صنعت نے ان معلومات کے جواب میں کہا ہے کہ برطانیہ کے پاس برآمدات کے لیے ایک "سخت اجازت نامہ نظام” موجود ہے، اور یہ کہ اس نے ان اشیاء کی برآمد پر پابندی لگا دی ہے جو غزہ میں عسکری کارروائیوں میں استعمال ہو سکتی ہیں۔ تاہم، وزارت نے ایف 35 طیاروں کے پروگرام سے منسلک کچھ اجزاء کی برآمد کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ یہ تمام تفصیلات اس المناک حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری ظلم و ستم میں صرف قابض اسرائیل ہی نہیں، بلکہ کئی عالمی طاقتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ شریک ہیں۔ ان کی خاموشی اور تعاون، فلسطینی نسل کشی کو مزید خطرناک اور پیچیدہ بنا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قابض اسرائیل کی برطانوی کمپنی گولہ بارود کے مطابق

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان