سندھ اورپنجاب کا بجٹ 13جون کو پیش کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)پنجاب کا صوبائی بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائیگا،بجٹ میں کوئی نیاٹیکس نہ لگانے کاامکان، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے بجٹ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 110 ارب روپے زیادہ رکھے جائیں گے اور صحت کے بجٹ میں 90 ارب روپے زیادہ رکھے جائیں گے،لاہور میں نواز شریف میڈیکل سٹی میں 14 ہسپتال بنائے جائیں گے۔نواز شریف میڈیکل سٹی میں پرائیوٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت کام ہوگا۔ پنجاب بھر میں صاف پانی کی اسکیم لائی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی خوشخبری بھی دیدی۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں اضافے کی تفصیلات وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد حتمی کی جائیں گی۔ انہوں نے وفاق سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرے تاکہ ملازمین کی فلاح و بہبود بہتر ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔