بغاوت کا خطرہ ہے، مزید نیشنل گارڈز تعینات ہو سکتے ہیں، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
لاس اینجلس (کیلی فورنیا) میں غیر قانونی امیگرینٹس کے خلاف حالیہ چھاپوں کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی ہے، جو آج چوتھے روز بھی جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاس اینجلس میں مظاہرے و گرفتاریاں، گورنر اور میئر ٹرمپ پر بھڑک اٹھے
ان مظاہروں کے جواب میں امریکی حکومت نے لاس اینجلس کو محفوظ بنانے کے لیے 700 میرینز تعینات کر دیے ہیں، جبکہ نیشنل گارڈز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر کیلیفورنیا میں مزید نیشنل گارڈز بھیجے جا سکتے ہیں، کیونکہ ایسے مظاہروں سے بغاوت کا امکان بڑھ سکتا ہے، اور وہ کسی بھی قسم کے خانہ جنگی سے گریز چاہتے ہیں ۔ ان مظاہروں کے دوران اب تک 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لاس اینجلس فسادات: نیشنل گارڈز کی تعیناتی کے بعد مظاہروں کی شدت میں اضافہ
گزشتہ اتوار کو بھی صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی جب نیشنل گارڈز کی تعیناتی کو مظاہرین نے تشدد آمیز انداز میں رد کیا، کچھ گاڑیاں بھی آگ لگا کر جلا دی گئیں ۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میرینز سرکاری املاک اور اہم تنصیبات کی حفاظت کریں گے۔
یاد رہے کہ یہ کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف چھاپوں کے سبب شروع ہونے والے مظاہروں نے ایک بڑے عوامی بحران کی شکل اختیار کر لی ہے، جس کے جواب میں وفاقی حکومت نے فوجی سطح پر اقدامات کرکے شہر میں نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیشنل گارڈز لاس اینجلس
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔