بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا رخ موڑنے کے منصوبے پر کام تیز کر دیا ہے، جس سے پاکستان کو شدید آبی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب میں ’ہریکی بیراج‘ کو مرکزی نقطہ بنا کر دریائے چناب، جہلم اور انڈس کو راوی اور بیاس کے ذریعے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت نے جنگ میں شکست کے بعد سندھ طاس معاہدے کو ہتھیار بنانے کی کوشش کی، وزیراعظم شہباز شریف
اس مقصد کے لیے تقریباً 200 کلومیٹر طویل چینل اور 12 بڑے سرنگوں پر مشتمل نظام پر غور کیا جا رہا ہے، تاکہ مغربی دریاؤں کے پانی کو مشرقی دریاؤں کے نیٹ ورک میں شامل کر کے اسے بھارت کے دیگر علاقوں، خصوصاً راجستھان اور یامونا بیسن کی طرف موڑ دیا جائے۔
یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے انڈس واٹرز ٹریٹی کو مؤخر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ بھارت نے یہ اقدام اپریل 2025 میں پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد کیا، جس کا الزام اس نے پاکستان پر عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بھارت کی متواتر خلاف ورزیاں، تیر کمان سے نکلنے سے پہلے دنیا کارروائی کرلے
منصوبے کا اعلان ایک جارحانہ اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے پاکستان کی زراعت، بجلی کی پیداوار اور پینے کے پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
پاکستان کی تقریباً 80 فیصد زراعت انڈس بیسن کے ان ہی دریاؤں پر انحصار کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت ان دریاؤں کا پانی روکنے یا موڑنے میں کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان میں خشک سالی، زرعی بحران اور بجلی کی شدید قلت جیسے مسائل جنم لیں گے۔ خاص طور پر موسمِ سرما میں جب پانی کی قدرتی سطح کم ہوتی ہے، ایسی کسی بھی کارروائی کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ہٹ دھرمی برقرار، جے شنکر کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر اصرار
رپورٹ مطابق بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ اس کی داخلی آبی ضروریات کو پورا کرنے، یامونا کو بحال کرنے اور خشک علاقوں کی زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ہے۔ تاہم مبصرین اسے سیاسی اور دفاعی محرکات سے جوڑ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس منصوبے پر مکمل عملدرآمد تکنیکی اور مالی اعتبار سے انتہائی مشکل ہے، تاہم بھارت کی نیت اور اس کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے آثار پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
پاکستان نے اس منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے ایک ممکنہ جنگی اقدام قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ انڈس واٹرز ٹریٹی عالمی بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پایا تھا، جس کے تحت بھارت کو مشرقی دریاؤں (راوی، بیاس، ستلج) کا اور پاکستان کو مغربی دریاؤں (چناب، جہلم، انڈس) کا حق دیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ 3 بڑی جنگوں کے باوجود قائم رہا، لیکن حالیہ اقدامات اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈس واٹر ٹریٹی بھارت بیاس پاکستان جہلم چناب دریا راوی ستلج سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈس واٹر ٹریٹی بھارت بیاس پاکستان جہلم دریا راوی ستلج پاکستان کی بھارت نے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔