ایران نے اسرائیلی ایٹمی راز کیسے چرایا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
بین الاقوامی ایجنسیوں اور اسرائیلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی داخلی دستاویزات چوری کر کے استعمال کی ہیں، جن میں ایک اہم سالٹیج اسرائیل کا خفیہ نیوکلیئر ریسرچ مرکز، “سورک” (Soreq Nuclear Research Center) بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی حساس دستاویزات ایران کے ہاتھ لگ گئیں
اسرائیلی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ریفیلیل گروسّی نے تصدیق کی ہے کہ چوری شدہ مواد میں اسرائیلی ریسرچ سائٹ سے متعلق دستاویزات یہ معلومات موجود تھیں۔
ایرانی ریاستی ذرائعِ ابلاغ اور انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کے مطابق، یہ دستاویزات نہ صرف اسرائیل کی ایٹمی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہیں بلکہ ممکنہ طور پر امریکہ اور یورپ سے ملنے والی معلومات پر مشتمل تھیں۔
IAEA ڈائریکٹر جنرل گروسّی نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی یہ غیر مجاز دستاویز رسائی اس کے تعاونی رویے سے مطابقت نہیں رکھتی اور تمام معلومات ایجنسی اور ممبر ممالک کے حقوق سے متعلق تھیں، نہ کہ انفرادی ملکوں کی ملکیت ۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کے جوہری پروگرام سے متعلق انتہائی حساس دستاویزات ایران کے ہاتھ لگ گئیں
اس واقعہ کے تناظر میں یورپ اور امریکا اب ایران پر زور دے رہے ہیں کہ اسے وہ IAEA قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ۔
سورک ریسرچ سینٹرسورک ریسرچ سینٹر، تل ابیب کے قریب واقع ادارہ، بنیادی طور پر ایٹمی توانائی کے تحقیقی پروگرام سے منسلک ہے اور ایجنسی کے معائنوں کے تحت ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈائریکٹ بمب فیکٹری نہیں ۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
IAEA ایٹمی راز ایران تل ابیب جوہری راز سورک ریسرچ سینٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایٹمی راز ایران تل ابیب جوہری راز
پڑھیں:
پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
ویب ڈیسک: پی ٹی اے نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے ایک اہم اور تنبیہی پیغام جاری کیا ہے جس میں اپنی نام پر رجسٹرڈ سمز کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ اپنی شناخت پر جاری شدہ سم کسی دوسرے شخص کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے کیونکہ آپ کے نام پر موجود سم کسی بھی غیر قانونی یا مجرمانہ کارروائی میں استعمال ہو سکتی ہے۔
صارفین کی سہولت اور حفاظت کے لیے پی ٹی اے نے ہدایت کی ہے کہ شہری یہ چیک کریں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں فعال ہیں،اس معلومات کیلئے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ وزٹ کر سکتے ہیں یا اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر کسی ڈیش (-) کے 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اگر شناختی کارڈ پر کوئی نامعلوم یا بلا ضرورت سم نظر آئے تو اسے فوری طور پر بلاک کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
محفوظ خریداری اور بائیو میٹرک کا احتیاطی استعمال
پی ٹی اے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نئی سم کی خریداری کے لیے ہمیشہ صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر کا ہی انتخاب کریں اور اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کی اجازت یا علم کے بغیر کوئی بھی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اس سے قبل بھی پی ٹی اے کی جانب سے شہریوں کو خبردار کیا جا چکا ہے کہ مفت سم کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کروانے والے افراد سے ہوشیار رہیں۔
ایسے دھوکے باز آپ کی بائیو میٹرک کا غلط استعمال کر کے آپ کی معلومات پر کوئی اور سم بھی جاری کروا سکتے ہیں، جس کا خمیازہ بعد میں اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔