کراچی: ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ، تین بچوں کا باپ جان کی بازی ہار گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم کے بڑھتے واقعات نے ایک اور قیمتی جان لے لی۔ گزشتہ روز نیو کراچی بلال کالونی میں ڈاکوؤں نے مزاحمت کرنے پر شہری ناصر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
اہل خانہ کے مطابق ناصر نے لٹنے کے بعد ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور اپنی موٹر سائیکل سے ان کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری۔ تاہم ڈاکو گرے نہیں بلکہ انہوں نے ناصر پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
ناصر کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سینے میں چھ سے زائد گولیاں لگنے کے باعث وہ زخمی ہوا بعد ازاں اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا۔
متاثرہ خاندان نے پولیس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ قتل ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں، یہ واضح طور پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کا واقعہ ہے۔
ناصر نیو کراچی صدیق گوٹھ کا رہائشی اور تین کمسن بچوں کا باپ تھا۔ اہل محلہ اور رشتہ داروں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔