ٹنڈوالٰہیار،طویل اور غیراعلانیہ بجلی کی لوڈشیڈنگ،شہریوں کو قلت آب کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوالٰہیار(نمائندہ جسارت)طویل اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کی بندش ظلم کی انتہا ہے جن علاقوں میں 10 سے 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی تھی اب وہاں 14-16 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ،گھروں میں موجود خواتین بچے ،بزرگ اور بیمار افراد کا جینا مشکل ہو گیا ہے رات کے وقت بھی شہر کا بڑا حصہ اندہیرے میں ڈوبا رہتا ہے اس کے باوجود بجلی پیدا کرنے والے ادارے اضافی بجلی کے بل بھیج کر شرم محسوس نہیں کرتے پانی بجلی کے خلاف آئے دن احتجاج کیا جارہا ہوتا ہے شہریوں نے حکومت اور متعلقہ شعبوں سے اپیل کی عوام کی سے بچیں شدید گرمی میں بدترین اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور پانی کے بحران پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں شہریوں کا کہنا تھا کہ ٹنڈوالہیار میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور ٹرپنگ نے عوام کا جینا محال کردیا، ٹنڈوالہیار میں حیسکو حکام کی جانب سے قیامت خیز گرمی میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ اور ٹرپنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے ایک طرف عوام سخت پریشان ہے تو دوسری جانب شہر کا کاروبار مکمل ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، شہری علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 14 سے 18 گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ پورا دن ٹرپنگ بھی کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی کی لوڈ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔