عید الضحیٰ پر شہر میں صفائی ستھرائی کے دعوے دہرے رہے گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم محب قومی سماجی کونسل (ایم کیو ایس سی) پاکستان کے چیئرمین و محب وطن سماجی رہنما محمد اسلم خان فاروقی نے کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ آئین پاکستان کی بنیادی حقوق کی شقوں کے مطابق عوام کو ضروریات زندگی کی تمام سہولیات و حقوق فراہم کرے لیکن افسوس عوام بنیادی سہولیات و حقوق سے محروم ہے حتیٰ کہ شہر قائد میں عید الاضحٰی پر ناقص صفائی ستھرائی، گندگی کے ڈھیر اور آلائشوں سے اٹھتا تعفن مختلف بیماریوں کا سبب بن رہا ہے اور لوگ بلخصوص بچوں میں موزی بیماریاں پھیل رہی ہیں، عید الضحیٰ پر شہر میں صفائی ستھرائی کے دعوے دہرے کے دہرے رہے گئے ان خیالات کا اظہار اسلم خان فاروقی نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ایم کیو ایس سی کے جنرل سیکریٹری حکیم محمد شعیب قریشی، محمد سلیم چندریگر، ماسٹر اسلم، محمد ابراہیم و دیگر سے عید ملتے ہوئے کیا اسلم خان فاروقی نے کہا کہ یوں لگتا ہے کہ حکمرانوں کو ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کو مسائل سے نکالنے اور عوام کو بنیادی سہولیات و حقوق فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں تاہم شہر کراچی میں بنیادی سہولیات کے فقدان اور عوام کی محرومیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نےسرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس نے کہاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست مطلوب نہیں، عدالت نے کہاکہ جن کو چاہئے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہئے پھر اب تک نام کیو ں نہیں نکالا۔
ایف آئی اے نے کہاکہ یار محمد رند کا نام ای سی ایل نہیں ،صرف پی این آئی ایل میں ہے،سابق وفاقی وزیر کا نام پی این آئی ایل میں 28مارچ کو ڈالا گیا، پی این آئی ایل میں نام ایک ماہ رکھاجاتا، پھرتوسیع لینا ہوتی ہے۔
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
عدالت نے کہاکہ زیادہ سے زیادہ 60روز رکھ سکتےہیں، اب تو جولائی ہے، کتنے ماہ ہو گئے؟کس قانون کے تحت نام اب تک برقرار رکھا گیا؟ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آ رہے ہیں ، ہم کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں۔
مزید :