ریاض (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 10 جون2025ء)سعودی عرب میں نیشنل واٹر کمپنی کے اعلان کے مطابق اس نے رواں سال 1446ھ کے حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات میں اللہ کے مہمانان کو 4.5 کروڑ مکعب میٹر سے زائد پانی فراہم کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کمپنی نے واضح کیا کہ یکم ذو القعدہ 1446ھ سے شروع ہونے والے حج کے سیزن میں حرم مکی اور مشاعر مقدسہ میں پانی کی ترسیل کا دورانیہ روزانہ 24 گھنٹے رہا، اور اس دوران 3.

34 کروڑ مکعب میٹر سے زائد پانی کی صفائی بھی کی گئی، جب کہ ایک لاکھ سے زیادہ تجربہ گاہی معائنے بھی انجام دئیے گئے۔

(جاری ہے)

کمپنی نے بتایا کہ مکہ مکرمہ اور مقامات مقدسہ میں اپنی خدمات کی انجام دہی کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی، اور مطلوبہ مقدار میں پانی عوامی نیٹ ورک، وضو خانوں، منی کے خیموں کے لیے مخصوص ایئرکنڈیشننگ نیٹ ورک، اور فائر فائٹنگ کے لیے سول ڈیفنس کے استعمال کے خاص ٹینکوں اور نیٹ ورکوں تک پہنچایا گیا۔کمپنی نے یہ بھی تصدیق کی کہ وہ اگلے حج سیزن 1447ھ کے لیے ابھی سے تیاریوں کا آغاز کر چکی ہے تاکہ اللہ کے مہمانان کو بہترین آرام دہ خدمات مہیا کی جا سکیں اور وہ سکون و اطمینان کے ساتھ اپنے مناسک ادا کر سکیں۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا