بھارتی اقدامات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں، پاکستانی وفد
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ کی قیادت میں پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے کہا ہے کہ ہندوستان کی طرف سے یہ اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔پاکستان نے وفد نے برٹش پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ (اے پی پی جی) برائے پاکستان کو ویسٹ منسٹر پیلس میں بریفنگ دی۔یہ وفد پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت کی وجہ سے خطے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری تک پاکستان کی جاری سفارتی رسائی کا حصہ ہے۔بلاول بھٹوزرداری نے برطانوی پارلیمنٹرینز کو بھارتی جارحیت اور پہلگام واقعے کے بعد پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری پر وار کے اثرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے آگاہ کیا کے ہندوستان بغیر کسی جواز اور تحقیقات کے پاکستان پر الزام تراشی کا مرتکب ہوا۔انہوں نے مصدقہ تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد کے بغیر پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد بھارتی الزامات کو واضح طور پر مسترد کیا۔وفد نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ شہری آبادی پر بھارتی حملے اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور جدید اصولوں کی بنیاد کے نظام کی صریح خلاف ورزی ہیں - ہندوستان کی طرف سے یہ اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرناک نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کاری کے وزیر مصدق ملک نے پارلیمنٹیرینز کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے ماحولیاتی خطرات اور پاکستان کی 240 ملین آبادی کی غذائی تحفظ اور بقا کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔وفد نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا ردعمل ذمہ دارانہ اور بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق تھا، جس میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق بھی شامل ہے۔وفد نے تحمل سے کام لینے، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور تمام تصفیہ طلب مسائل بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعہ پر دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات کے آغاز کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کے لیے وفد نے
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب