محکمہ صحت بلوچستان کی کارروائی، عید کے دوران غیر حاضری پر 15 ملازمین نوکری سے برطرف
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
محکمہ صحت بلوچستان نے عید کے دوران غیر حاضری پر ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 15 کو نوکری سے برطرف کردیا۔
رپورٹ کے مطابق 15 کنٹریکٹ نرسز برطرف کردی گئیں، 18 ڈاکٹروں کے خلاف بھی محکمانہ ایکشن کا فیصلہ کیا گیا، اسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ بخت محمد کاکڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
اعلامیہ کے مطابق دوران فرائض غیر حاضری پر سخت محکمانہ کارروائی کا آغاز بھی کر دیا،
جب کہ 18 پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹروں اور ہاوٴس آفیسرز کے خلاف بھی تادیبی کارروائی شروع کردی گئی، 7 اور 8 جون کو بغیر اجازت غیر حاضر رہنے والے 18 پی جی اور ہاوٴس آفیسرز کے خلاف بھی کارروائی کے احکامات جاری کیے گئے۔
بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ پی جی اور ہاوٴس آفیسر کے وظیفے فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مریضوں کی دیکھ بھال میں غفلت قابل معافی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔