UrduPoint:
2026-07-24@08:11:19 GMT

لاس اینجلس میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے میرینز تعینات

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

لاس اینجلس میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے میرینز تعینات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جون 2025ء) تارکین وطن کی حراست کے خلاف مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی لاس اینجلس میں جمع ہیں۔ اس دوران امریکی شمالی کمان نے کہا کہ پینٹاگون لاس اینجلس میں امیگریشن م‍خالف مظاہرین کے خلاف حکام کی کارروائیوں میں مدد کے لیے تقریباً 700 میرینز تعینات کر رہا ہے۔

امریکی شہر لاس اینجلس میں مظاہرے اور بدامنی جاری

امریکی کمان نے ایک بیان میں کہا، کہ لاس اینجلس میں جاری سکیورٹی آپریشن، جسے’’ٹاسک فورس 51‘‘ کا نام دیا گیا ہے میں ’’تقریباً 2100 نیشنل گارڈ اور 700 حاضر سروس میرینز‘‘ شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے قبل ازیں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ یہ تعیناتی ’’وفاقی افسران اور وفاقی عمارتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات‘‘ کی وجہ سے کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بیان کے مطابق ان تمام اہلکاروں کو ہجوم کو کنٹرول کرنے، کشیدگی کم کرنے، اور طاقت کے استعمال کے اصولوں پر تربیت دی گئی ہے۔

امریکی نیشنل گارڈ کیا ہے؟

امریکی سرزمین پر حاضر سروس فوج کی تعیناتی ایک غیرمعمولی اور حساس فیصلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیوِن نیوزوم نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’’امریکی میرینز نے مختلف جنگوں میں جمہوریت کے دفاع کے لیے عزت کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

انہیں امریکی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ رویہ امریکہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘

نیوزوم نے مزید کہا،”یہ عوامی تحفظ کے لیے نہیں ہے، یہ ایک خطرناک صدر کی انا کی تسکین کا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نے صدر ٹرمپ کے اقدام کو ’’لاپرواہ، بے معنی اور امریکی فوجیوں کی بے عزتی‘‘ قرار دیا۔

مظاہرے چوتھے روز بھی جاری

تارکین وطن کی حراست کے خلاف مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی لاس اینجلس میں جمع ہیں۔

لاس اینجلس کے پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ مظاہرین شہر بھر میں کئی سڑکوں کو بند کر رہے تھے اور کچھ سڑکوں کو بند کرنے کا اعلان کر رہے تھے۔

امریکہ کا اب 'مجرم' تارکین وطن کو گوانتانامو بے میں رکھنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ جمعے کے روز امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے وفاقی ایجنٹوں کے جانب سے متعدد چھاپوں کے دوران درجنوں افراد کی گرفتاری کے بعد پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس احتجاج پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا۔

نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

ریاست کیلیفورنیا نے لاس اینجلس میں امیگریشن مظاہروں پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دائر مقدمے میں دلیل دی گئی ہے کہ ریاست میں فوجیوں کی تعیناتی نے ریاست کی خودمختاری کو ’’روند‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیلیفورنیا نے اس پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا نے کہا کہ یہ اقدام اس وقت ضروری ہو گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا، جس سے بدامنی بڑھ رہی ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک حکومت کو ’’اپنے عوام کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے.

.. نہ کہ فوجی حکمرانی کو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’کیلیفورنیا عدالت میں ان اصولوں کے لیے کھڑا رہے گا۔‘‘

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نیشنل گارڈ کے دو ہزار اہلکاروں کو لاس اینجلس میں تعینات کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ نے لاس اینجلس میں مزید عسکریت پسندی کے خلاف خبردار کیا۔

اقوام متحدہ نے حکومت کی تمام سطحوں بشمول ریاستی اور وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدامنی کے درمیان ’’مزید عسکریت پسندی‘‘ کو روکیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے کہا،’’ہم اس صورت حال کو مزید عسکریت پسند ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، اور ہم مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح پر فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس کے لیے کام کریں۔

‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ لاس اینجلس میں نیشنل گارڈز کو تعینات کرنا ضروری تھا۔

ٹرمپ نے لکھا، ’’ہم نے کیلیفورنیا میں پرتشدد، بھڑکانے والے فسادات سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈ بھیجنے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹرمپ انتظامیہ کے لاس اینجلس میں اقوام متحدہ کی تعیناتی نیشنل گارڈ کے خلاف نے کہا کیا ہے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل