UrduPoint:
2026-06-03@05:00:23 GMT

لاس اینجلس میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے میرینز تعینات

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

لاس اینجلس میں مظاہرین پر قابو پانے کے لیے میرینز تعینات

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 10 جون 2025ء) تارکین وطن کی حراست کے خلاف مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی لاس اینجلس میں جمع ہیں۔ اس دوران امریکی شمالی کمان نے کہا کہ پینٹاگون لاس اینجلس میں امیگریشن م‍خالف مظاہرین کے خلاف حکام کی کارروائیوں میں مدد کے لیے تقریباً 700 میرینز تعینات کر رہا ہے۔

امریکی شہر لاس اینجلس میں مظاہرے اور بدامنی جاری

امریکی کمان نے ایک بیان میں کہا، کہ لاس اینجلس میں جاری سکیورٹی آپریشن، جسے’’ٹاسک فورس 51‘‘ کا نام دیا گیا ہے میں ’’تقریباً 2100 نیشنل گارڈ اور 700 حاضر سروس میرینز‘‘ شامل ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے قبل ازیں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا تھا کہ یہ تعیناتی ’’وفاقی افسران اور وفاقی عمارتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے خطرات‘‘ کی وجہ سے کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

بیان کے مطابق ان تمام اہلکاروں کو ہجوم کو کنٹرول کرنے، کشیدگی کم کرنے، اور طاقت کے استعمال کے اصولوں پر تربیت دی گئی ہے۔

امریکی نیشنل گارڈ کیا ہے؟

امریکی سرزمین پر حاضر سروس فوج کی تعیناتی ایک غیرمعمولی اور حساس فیصلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیوِن نیوزوم نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا کہ ’’امریکی میرینز نے مختلف جنگوں میں جمہوریت کے دفاع کے لیے عزت کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

انہیں امریکی سرزمین پر اپنے ہی شہریوں کے خلاف تعینات نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ رویہ امریکہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔‘‘

نیوزوم نے مزید کہا،”یہ عوامی تحفظ کے لیے نہیں ہے، یہ ایک خطرناک صدر کی انا کی تسکین کا معاملہ ہے۔‘‘ انہوں نے صدر ٹرمپ کے اقدام کو ’’لاپرواہ، بے معنی اور امریکی فوجیوں کی بے عزتی‘‘ قرار دیا۔

مظاہرے چوتھے روز بھی جاری

تارکین وطن کی حراست کے خلاف مظاہرین مسلسل چوتھے روز بھی لاس اینجلس میں جمع ہیں۔

لاس اینجلس کے پولیس ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ مظاہرین شہر بھر میں کئی سڑکوں کو بند کر رہے تھے اور کچھ سڑکوں کو بند کرنے کا اعلان کر رہے تھے۔

امریکہ کا اب 'مجرم' تارکین وطن کو گوانتانامو بے میں رکھنے کا فیصلہ

واضح رہے کہ جمعے کے روز امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے وفاقی ایجنٹوں کے جانب سے متعدد چھاپوں کے دوران درجنوں افراد کی گرفتاری کے بعد پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس احتجاج پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دیا۔

نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ

ریاست کیلیفورنیا نے لاس اینجلس میں امیگریشن مظاہروں پر قابو پانے کے لیے نیشنل گارڈ کی تعیناتی پر ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف دائر مقدمے میں دلیل دی گئی ہے کہ ریاست میں فوجیوں کی تعیناتی نے ریاست کی خودمختاری کو ’’روند‘‘ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کیلیفورنیا نے اس پر پابندی لگانے کی درخواست کی ہے۔

کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل راب بونٹا نے کہا کہ یہ اقدام اس وقت ضروری ہو گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا، جس سے بدامنی بڑھ رہی ہے۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایک حکومت کو ’’اپنے عوام کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے.

.. نہ کہ فوجی حکمرانی کو۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’کیلیفورنیا عدالت میں ان اصولوں کے لیے کھڑا رہے گا۔‘‘

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے نیشنل گارڈ کے دو ہزار اہلکاروں کو لاس اینجلس میں تعینات کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا ردعمل

اقوام متحدہ نے لاس اینجلس میں مزید عسکریت پسندی کے خلاف خبردار کیا۔

اقوام متحدہ نے حکومت کی تمام سطحوں بشمول ریاستی اور وفاقی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بدامنی کے درمیان ’’مزید عسکریت پسندی‘‘ کو روکیں۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے کہا،’’ہم اس صورت حال کو مزید عسکریت پسند ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے، اور ہم مقامی، ریاستی اور وفاقی سطح پر فریقین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اس کے لیے کام کریں۔

‘‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اپنے سوشل نیٹ ورک ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ لاس اینجلس میں نیشنل گارڈز کو تعینات کرنا ضروری تھا۔

ٹرمپ نے لکھا، ’’ہم نے کیلیفورنیا میں پرتشدد، بھڑکانے والے فسادات سے نمٹنے کے لیے نیشنل گارڈ بھیجنے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ٹرمپ انتظامیہ کے لاس اینجلس میں اقوام متحدہ کی تعیناتی نیشنل گارڈ کے خلاف نے کہا کیا ہے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا