چین اور جنوبی کوریا کی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید بلندی تک لے جانا چاہئے، چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
بیجنگ :چینی صدر شی جن پھنگ نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔منگل کے روز شی جن پھنگ نے ایک بار پھر لی جے میونگ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور جنوبی کوریا کو خوشگوار ہمسائگی اور دوستی کی سمت پر قائم رہتے ہوئے اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید بلندی تک لے جانا چاہئے اور تمام سطحوں اور شعبوں میں تبادلوں کو مضبوط بناتے ہوئے اسٹریٹجک باہمی اعتماد کو بڑھانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عالمی اور علاقائی صنعتی اور سپلائی چینز کے استحکام اور اسے ہموار بنانے کے لئے دوطرفہ تعاون اور کثیر الجہتی تعاون کو مضبوط بناناہوگا اور فریقین کے درمیان افرادی و ثقافتی تبادلوں اور باہمی تفہیم کو گہرا کرنا ہوگا تاکہ چین جنوبی کوریا کی دوستی دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں جڑپکڑ پائے ۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مرکزی مفادات اور اہم خدشات کا احترام کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ چین جنوبی کوریا تعلقات ہمیشہ درست راستے پر آگے بڑھیں۔جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شی جن پھنگ کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنوبی کوریا چین تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور جنوبی کوریا چین کے ساتھ مل کر دوطرفہ خوشگوار ہمسائگی اور دوستانہ تعلقات کی گہری ترقی کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کو بڑھانے کے لئے تیار ہے تاکہ جنوبی کوریا چین تعاون کے مزید ثمرات حاصل ہو سکیں ۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جنوبی کوریا شی جن پھنگ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔