Daily Mumtaz:
2026-07-24@05:36:41 GMT

نصف بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے مختص

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

نصف بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے مختص

اسلام آباد:    وفاقی بجٹ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی پرآٹھ اعشاریہ دو  ٹریلین روپے خرچ ہوں گے، جو پورے بجٹ کا تقریباً نصف ہے۔ یہ صورتحال ملکی اور غیر ملکی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی عکاسی بھی کرتی ہے۔وائس آف جرمنی کی رپورٹ کے مطابق  دفاعی شعبے کے لیے دواعشاریہ پانچ ٹریلین روپے مختص کیے گئے  ، جو گزشتہ سال کے دواعشاریہ ایک ٹریلین روپے کے مقابلے میں 4 ٹریلین روپے کا اضافہ ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، اور سماجی تحفظ جیسے اہم شعبوں کے لیے مالی وسائل مزید محدود ہو گئے  ۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ کے تناظر میں دفاعی بجٹ میں اضافہ متوقع تھا اور یہ اضافہ ناگزیر تھا۔  وفاقی بجٹ میں دفاع اور قرضوں کی ادائیگیوں کو فوقیت ملنے کے باعث ترقیاتی کاموں اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مالی گنجائش محدود ہو گئی ۔بجٹ میں دیگر اہم مختص رقوم میں ایک ٹریلین روپے پنشن ادائیگیوں کے لیے، ایک اعشاریہ نو ٹریلین روپے صوبوں کو گرانٹس اور مالی منتقلیوں کے لیے، ایک اعشاریہ دو ٹریلین روپے سبسڈی کے لیے، اور ایک ٹریلین روپے وفاقی حکومت کے روزمرہ امور چلانے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام جسے معیشت کی ترقی کا انجن سمجھا جاتا ہے، اسے محدود کر کے صرف ایک ٹریلین روپے تک کر دیا گیا ، جو گزشتہ سال کےایک اعشاریہ چار ٹریلین روپے سے کم ہے، جس سے انفراسٹرکچر اور سماجی ترقی کے منصوبوں میں تاخیر پر خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایک ٹریلین روپے کے لیے

پڑھیں:

تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم

 وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم