بجٹ، سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
بجٹ دستاویز کے مطابق آن لائن کاروبار کرنے والوں پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ای کامرس کا پلیٹ فارم استعمال کرنے پر اشیا پر ٹیکس لگے گا، ڈیجیٹل طور پر منگوائی جانے والی اشیا اور خدمات پر ٹیکس لگے گا جبکہ ای کامرس پر کاروبار کرنے والوں کو ماہانہ ٹرانزکشنز ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ دینا ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی بجٹ میں سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ بجٹ دستاویز کے مطابق ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی، اس فیصلے کا اطلاق غیرفعال طریقے حاصل کردہ آمدنی پر ہو گا، یہ ٹیکس قومی بچت سکیموں پر لاگو نہیں ہو گا۔ اسی طرح آن لائن کاروبار کرنے والوں پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ای کامرس کا پلیٹ فارم استعمال کرنے پر اشیا پر ٹیکس لگے گا، ڈیجیٹل طور پر منگوائی جانے والی اشیا اور خدمات پر ٹیکس لگے گا جبکہ ای کامرس پر کاروبار کرنے والوں کو ماہانہ ٹرانزکشنز ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ دینا ہو گی۔
دستاویز میں قرض کی بنیاد پر حاصل آمدنی پر 25 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے اور شیئرز پر منافع پر ٹیکس کی شرح میں رد و بدل نہیں کیا گیا جبکہ 70 سال سے کم عمر کے زیادہ پنشن لینے والے افراد پر ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب سالانہ ایک کروڑ سے زائد وصولی پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کم اور درمیانی پنشن وصول کرنے والوں پر ٹیکس عائد نہیں ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کاروبار کرنے والوں ٹیکس کی شرح پر ٹیکس کی ٹیکس عائد کا فیصلہ کیا گیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔