بجٹ 2025-2026 : فنانس بل کی منظوری کے بعد کون سی اشیا مہنگی اور کیا چیزیں سستی ہوں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
وفاقی حکومت نے بجٹ میں متعدد اشیاء کی تیاری، درآمد اور فروخت پر ٹیکسوں میں اضافے کی تجویز دی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی بجٹ سے ملک میں پھر سے مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے۔
حکومت نے سولر پینلز، گاڑیوں، الیکٹرانک مصنوعات، کپڑے، درآمدی چاکلیٹس، کافی، کتوں بلیوں کی خوراک اور ہرقسم کی آن لائن شاپنگ پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
وفاقی بجٹ میں 850 سی سی تک گاڑیوں اور درآمدی سولر پینلز پر18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا، ڈیجیٹل انوائسنگ کے تحت الیکٹرانک مصنوعات پر0.
ایمپلی فائرز، پروجیکٹرز سمیت الیکٹرانک میڈیا کیلئے استعمال ہونیو الے دیگر آلات پر بھی اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اندرون ملک ترسیل کی جانے والی اشیائے خورونوش سمیت ہر قسم کے سامان کی بلٹی پر بھی 18فیصد سیلز ٹیکس لگایا گیا ہے۔
ریٹیل پیکنگ میں درآمدی چاکلیٹس، کافی، سیریل بارز ،بلی اور کتوں کی خوراک بھی مہنگی ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی آن لائن شاپنگ بھی مہنگی کردی گئی ہے۔
درآمدی سبزیاں، پھل، زندہ جانور، گوشت، دالیں، فالکن، وارنش، پالش پر درآمدی ڈیوٹیوں میں کمی کر دی گئی ہے جس سے یہ اشیاء سستی ہو جائیں گی۔
ای کامرس پر اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے جس کے ذریعے ہر قسم کی آن لائن شاپنگ مہنگی ہوجائے گی اور ای کامرس کی ٹرانزیکشنز پر کوریئر کمپنیاں ،کریڈٹ کارڈ و ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے رقوم وصول کرنے والے بینک و دیگر ادارے بطور ود ہولڈنگ ایجنٹس اشیاء کی ترسیل کے وقت رقم کی وصولی کے ساتھ اٹھارہ فیصد سیلز ٹیکس وصول کرکے ایف بی آر کو جمع کروائیں گے۔
اسی طرح ٹک ٹاک، سوشل میڈیا،یو ٹیوبر، فری لانسرز،انسٹا گرام ، فیس بک،ٹوئٹر سمیت ہر قسم کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پرنشر ہونے والے اشتہارات کی آمدن کی تفصیلات بھی ہر تین ماہ بعد ایف بی آر کو جمع کروائی جائیں گی۔
ایف بی آر کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ معلومات فراہم نہ کرنے والے ڈیجیٹل پلیٹ فار م کوبھیجی جانے والی رقوم کی بیرون ملک منتقلی اسٹیٹ بینک کے ذریعے رکوانے کا اختیار ہوگا۔
بجٹ کی منظوری کے بعد لوہا اور سٹیل کی مصنوعات سستی ہو جائیں گی جبکہ جائیدادوں کی خریدوفروخت پر ٹیکسوں میں کمی سے پراپرٹی کا کاروبار تیز ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصد سیلز ٹیکس ٹیکس عائد گیا ہے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بجٹ سے چند روز قبل ہی آئینی عدالت سے حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا، وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی۔
نجی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے غیر رجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام ہے، حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا، اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں، قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں مزید لکھا کہ رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا۔ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
مزید :