کاشتکاروں کو کھربوں کا نقصان، انڈسٹری میں منفی گروتھ ،حکومت نے ریکارڈ توڑ دیئے : شبلی فراز
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کا کہنا ہے کہ مراعات یافتہ طبقے کو 5 کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، بجٹ میں غریبوں کا خون چوس کر اشرافیہ کو پلایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں رہنما پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت جو مسلط کی گئی اس نے ریکارڈ توڑ دیئے۔ پاکستان میں زراعت منفی ہوئی اور فصلیں تباہ ہو گئیں، فصلوں کے معاملے پر ماحولیات کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، کاشت کاروں کو کھربوں کا نقصان ہوا اور انڈسٹری میں منفی گروتھ ہوئی۔
پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے : صدر مملکت
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شبلی فراز کا کہنا تھا کہ عوام کی قوتِ خرید متاثر اور روپے سے بہتر افغان کرنسی ہو گئی، خطے کے ممالک میں ہم ہیں جو زوال پذیر ہیں، یہ افراد وہ ہیں جو فارم 47 پر پارلیمان میں ہیں، انہیں عوام نے نہیں بھیجا۔ عیدالاضحیٰ پر 30 فیصد لوگ قربانی تک نہیں کر سکے، پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، پانچ پانچ ہزار ڈالرز کے سوٹ پہننے والے ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، مراعات یافتہ طبقے کو 5 کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔
اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، بینکوں میں پیسوں پر 20 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا ہے، پیٹرولیم لیوی اور کاربن لیوی کو بڑھا دیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں، صدر آل پاکستان انجمن تاجران
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔