data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تلہار (نمائندہ جسارت) تلہار شہر کا وارڈ نمبر 9 گوٹھ فوٹو ماچھی کی خواتین مرد اور بچوں کا احتجاجی مظاہرہ گزشتہ 20 سالوںسے ہمارے وارڈ کو نظرانداز کیا جارہا ہے ہمارا محلہ تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم ہے گزشتہ 20 سالوں سے ترقیاتی منصوبوں کی رقم کہاں جارہی ہے انتظامیہ جواب دے مظاہرین کا طالبہ.

تفصیلات کے مطابق. تلہار سول اسپتال کے سامنے شہر کی ماچھی برادری کا قدیم گاؤں آباد ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اب شہر کا حصہ بن چکا ہے اور اسے وارڈ نمبر 9 بنادیا گیا ہے شہر کا حصہ بنانے اور وارڈ کا درجہ دے کراس گاؤں سے ہر سال مقامی سیاسی جماعت سینکڑوں ووٹ تو حاصل کرتی ہے لیکن گزشتہ 20 سالوں میں اس گاؤں کی تقدیر کبھی نہیں بدلی آج بھی یہ فوٹو ماچھی گاؤں واٹرسپلائی ، اسکول، پکی گلیوں، اور صفائی ستھرائی، اسٹریٹ سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے جس کی وجہ سے اہل علاقہ میں شدید قسم کی مایوسی نظر آتی ہے گزشتہ روز گاؤں فوٹو ماچھی کی خواتین ومرد جن میں مسمات روزینہ ، امیرزادی، منظور علی، محبوب سولنگی، سمیت دیگر نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ گاؤں فوٹو ماچھی کے رہائشیوں نے ہمیشہ ہی پیپلزپارٹی کے امیدواروں کو کامیاب کروایا ہے پر اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے منتخب نمائندوں نے ہمیشہ سے ہی ہمیں نظرانداز کیاہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا